حیات شمس

by Other Authors

Page 427 of 748

حیات شمس — Page 427

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 411 مباحثہ سے فرار چونکہ دوسرے عیسائی مسٹر گرین کی شکست کو نہ دیکھ سکتے تھے اور اسے آخری مباحثات میں پے در پے شکست کھانی پڑی اس لئے اس نے برادرم عبد العزیز صاحب کو خط لکھا اور آئندہ مباحثہ کرنے سے اس بنا پر انکار کیا کہ میرے دلائل بے فائدہ اور بے نتیجہ ہیں۔30اگست کو اس کا خط برادرم عبد العزیز نے حاضرین کو پڑھ کر سنایا جس کی میں نے تشریح کی کہ مسٹر گرین آج اسلئے حاضر نہیں ہوئے اور مباحثہ سے اس لئے انکار ہے کہ ان کے دلائل زبر دست ہوتے تھے اور نا قابل تردید تھے اس لئے وہ آئندہ اپنے گھر میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔لندن میں تین مجاہدین کا ورود الفضل قادیان 12 اکتوبر 1945ء) انگلستان اور یورپ میں حضرت مولانا شمس صاحب کی گراں قد را شاعت اسلام کی خدمات کے پیش نظر مرکز احمدیت قادیان سے آپ کی مدد کیلئے تین مجاہدین احمدیت بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔چنانچہ یہ تین مجاہدین انگلستان کیلئے روانہ کر دیئے گئے۔حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب امام مسجد احمد یہ لنڈن نے اپنی رپورٹ میں ان تین مجاہدین کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ایام زیر رپورٹ ( یعنی دسمبر 1945ء) میں سب سے اہم خبرتین مجاہدین کا بخیریت لنڈن پہنچنا ہے۔سب سے پہلے شیخ ناصر احمد صاحب پہنچے ان کے بعد چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اور چوہدری عبد اللطیف صاحب۔انہیں Welcome کہنے کیلئے جماعت کی طرف سے دار التبلیغ میں ٹی پارٹی دی گئی۔اس تقریب کی رپورٹ اخبار وانڈ زورتھ ، برو نیوز اور ساؤتھ ویسٹرن سٹار میں بھی شائع ہوئی۔تینوں مجاہدین لنڈن یونیورسٹی کے سکول آف اور تشکیل سٹڈیز میں بی اے آنرز عربی کورس کی سٹڈی کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ شارٹ ہینڈ اور شیخ ناصر احمد صاحب اور چوہدری عبداللطیف صاحب جرمن زبان سیکھ رہے ہیں۔دار التبلیغ میں بھی انہیں ایسے رنگ میں اسباق دیئے جارہے ہیں کہ انہیں خود تد بر کر کے نئی باتیں نکالنے کی مشق ہو جائے اور جب کبھی انہیں سکول میں یا دوسرے مقامات میں کسی شخص سے ملاقات کا موقعہ ملتا ہے تو وہ پیغام حق پہنچاتے ہیں۔چوہدری مشتاق احمد باجوہ صاحب اپنے ہینڈ بیگ میں اشتہارات رکھتے ہیں اور ٹرین میں بھی اشتہارات تقسیم