حیات شمس — Page 415
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 399 نے دو گھنٹوں میں کئی سوال اس سے دریافت کئے جن کے وہ جواب نہ دے سکا۔بعض کے متعلق کہا کہ میں نے یہ پہلے کبھی نہیں سنے اس لئے میں جواب نہیں دے سکتا اور اکثر کے متعلق کہا کہ میں تیاری کر کے جواب دوں گا۔حاضرین پر اس کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔اس روز مجھے یہ شبہ ہو گیا تھا کہ وہ آئندہ مباحثہ کرنے سے گریز کرے گا۔چنانچہ اگلے جمعہ جب کہ اس کی باری قرآن مجید پر اعتراضات کرنے کی تھی مباحثہ شروع ہوا اور میں نے اس کے پہلے سوال کا جو جنوں کے متعلق تھا یہ جواب دیا کہ آیت میں جنوں سے مراد الف لیلہ والے جن نہیں ہیں جیسا کہ مسٹر گرین نے کہا ہے بلکہ اس سے مراد بڑے لوگ اور لیڈر ہیں تو مسٹر گرین نے کہا جب تک آپ کسی انگریزی ترجمہ کو صحیح اور مستند نہیں مان لیتے میں مباحثہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں۔میں نے کہا یہ ترجمے شخصی ہیں۔میں ان کو صحیح مانتا ہوں لیکن اگر کسی جگہ میں سمجھوں کہ ترجمہ صحیح نہیں کیا گیا اور عربی زبان کی رو سے اس کی غلطی ثابت کر دوں تو مجھے ایسا کرنے کا حق ہے۔انجیل کے موجودہ تراجم جو کہ سوسائیٹیوں کی طرف سے شائع کئے گئے ہیں ان کے بعض الفاظ کے ترجمہ کے متعلق آپ خود کہتے رہے ہیں کہ اصل یونانی لفظ یہ ہے اور اس کا صحیح ترجمہ یوں ہے۔جب آپ سوسائیٹیوں کے مستند ترجمہ کی غلطی نکالنے کا حق رکھتے ہیں تو مجھے یہ کیوں حق نہیں کہ کسی ایک شخص کے ترجمہ میں اگر غلطی ہو تو وہ ظاہر نہ کروں۔لیکن وہ یہ کہہ کر کہ چونکہ یہ انگریزی ترجمہ کو صحیح نہیں مانتے اس لئے میں مباحثہ نہیں کرتا اپنی پلیٹ فارم اٹھا کر دوسری جگہ چلے گئے اور اس طرح مباحثات کا سلسلہ ختم ہو گیا۔حاضرین سمجھ گئے کہ مسٹر گرین مباحثہ نہیں کرسکتا۔مباحثات کا ذکر ایک رسالہ میں Religions ایک سہ ماہی رسالہ ہے جو Society for the study of Religions کی طرف سے شائع ہوتا ہے۔اس میں میری کتاب ”اسلام پر ریویو کرتے ہوئے ہائیڈ پارک میں مباحثات کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔The Imam of the London Mosque has come into arena of open debate in London recently and is very energetic in presenting his faith to Christian Opponents۔یعنی تھوڑے سے عرصہ سے مسجد لندن کے امام لندن میں پبلک مباحثات کے میدان میں نکلے ہیں