حیات شمس — Page 404
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 388 میں ان کے ظاہر ہو جانے کا اقرار کیا ہے اور مسیح نے خود بچے اور جھوٹے نبی کی شناخت کا جو معیار بتایا ہے وہ یہ ہے کہ اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور برا درخت برا پھل۔لہذا تم انہیں ان کے پھلوں سے پہچانو گے جو درخت برا پھل لاتا ہے وہ کاٹا جاتا ہے اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔دوسرے مقام پر انہوں نے فرمایا وہ پودا جسے میرے آسمانی باپ نے نہیں لگایا وہ جڑ سے اکھیڑا جائے گا۔اس معیار کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اور انہیں مطابق پیشگوئی استثناء باب 18:18 اور وعدہ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس (المائده: 68) کوئی شخص قتل نہ کر سکا اور آپ کا سلسلہ دنیا میں پھیل گیا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ مسٹر گرین کے عقیدہ کے مطابق اس معیار کی رو سے یسوع مسیح سچے نبی بھی ثابت نہیں ہوئے کیونکہ اس کے نزدیک وہ قتل کئے گئے۔گویا درخت کاٹا گیا۔پھر مسیح نے کہا وہ آگ میں ڈالا جاتا ہے اور مسٹر گرین کے عقیدہ کے مطابق مسیح صلیب پر مرنے کے بعد دوزخ میں ڈالے گئے۔اس پر بعض عیسائی حاضرین بول پڑے کہ آپ تو ان کو نبی مانتے ہیں۔میں نے کہا بے شک میں انہیں نبی مانتا ہوں اس لئے میرا عقیدہ ہے کہ وہ صلیب پرلعنتی موت نہیں مرے بلکہ طبعی وفات پائی۔کیا مسیح مرنے کے بعد جی اٹھا ؟ مسٹر گرین نے مسیح کی پیشگوئی کا ذکر کیا کہ وہ مرنے کے بعد جی اٹھے گا اور یہ کہ اسی غرض کیلئے وہ آیا تھا۔میں نے انجیل یوحنا سے بتایا کہ شاگردوں کو تو اس کے متعلق کوئی علم ہی نہیں تھا کہ وہ مرنے کے بعد جی اٹھے گا۔اس پر مسٹر گرین نے حیران ہو کر حوالہ طلب کیا جو دکھایا گیا۔سوالات کے وقت ایک شخص نے پورے وثوق سے کہا کہ مسیح نے حضرت یحیی کا نام لے کر یہ نہیں کہا کہ وہ آنے والا ایلیا ہے اسے بھی حوالہ دکھایا گیا جس سے وہ متاثر ہوا۔پھر ایک یہودی نے سوال کیا کہ اسمعیل حضرت ابراہیم کے بیٹے نہیں سمجھے گئے تھے صرف اسحاق کو بیٹا قرار دیا گیا اور یہ کہ موسیٰ سب سے بڑے نبی تھے اور استثناء کے آخری باب کی یہ آیت بھی پیش کر دی کہ اسرائیل میں اب تک موسیٰ کی مانند کوئی نبی نہیں اٹھا جس سے خدا نے منہ درمنہ بات کی ہو۔میں نے پیدائش سے حوالہ بتایا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے حضرت اسمعیل کے متعلق یہ کہا کہ میں اسے برکت دوں گا کیونکہ وہ تیری نسل ہے۔پھر ختنہ عہد کی علامت تھی اور حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسمعیل کا ختنہ کرا کر ثابت کر دیا کہ وہ بھی عہد میں شامل تھا۔پس حضرت اسمعیل کی