حیات شمس

by Other Authors

Page 393 of 748

حیات شمس — Page 393

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 377 متعلق گفتگو ہوئی۔دونوں کتابیں مطالعہ کر رہے ہیں۔مصطفیٰ اجمالی نے کہا جب سے میں آپ کے پاس آنے لگا ہوں اپنی بہت کچھ اصلاح کرلی ہے۔مسٹر عبدالفتاح ولیم لیگوس کے مسجد دیکھنے کیلئے تشریف لائے۔لاء کی سٹڈی کر رہے ہیں کیمبرج میں رہتے ہیں چھٹی پر لنڈن آئے تھے تو ملنے کیلئے آگئے۔سرفضل بھائی کریم بھائی نے ایک روز کھانے پر بلایا۔سیاسیات کے علاوہ مذہبی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔سرحسن سہروردی نے بھی ایک روز پنج پر بلایا اور قرآن مجید کی بعض آیات کی تفسیر دریافت کی ، وہ کتاب لکھ رہے ہیں۔اسمعیل و دیواک مسلم سوسائٹی کے پریذیڈنٹ ہیں۔ان کے والد روسی تھے اور ماں مصری ، انہوں نے ملاقات کیلئے کہا تھا اور احمدیت سے متعلق بعض باتیں دریافت کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ ایام زیر رپورٹ میں ان سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وہ عبدالمجید امام دوکنگ کے ساتھ دو کنگ میں بھی ایک عرصہ تک رہے ہیں۔وہ مسلم سوسائٹی کی طرف سے قاہرہ بھی گئے وہاں شیخ الازہر اور جمعیة الشبان المسلمین وغیرہ سے ملے۔لیکن چونکہ وہ وونگ کی طرف سے گئے تھے اس لئے انہوں نے مشتبہ نظر سے دیکھا اور کہا کہ آپ قادیانی تو نہیں ہیں نیز کہا کہ انہوں نے مجھے ایک کتاب بھی احمدیت کے خلاف دی لیکن مؤلف کا نام اس پر نہیں تھا اس لئے میں نے کہا جس کے مؤلف کو اپنا نام بھی ظاہر کرنے کی جرات نہیں اس کی باتوں پر اعتبار کیسے کیا جاسکتا ہے اس لئے مجھے خواہش تھی کہ میں کسی احمدی سے احمدیت کے متعلق دریافت کروں کیونکہ عبدالمجید وغیرہ تو بالکل نام تک نہیں لیتے۔اس نے سوالات دریافت کئے پہلے نبوت کے متعلق۔میں نے کہا ہاں ہم مسیح موعود علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں۔پھر اس کی تشریح کی۔انہوں نے کہا کہ ایسی نبوت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا کوئی انکار نہیں کرنا پڑتا پھر اس میں کیا حرج ہے۔پھر غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ ادا کرنے کے متعلق سوال کیا اس کی بھی تفصیل بتائی۔پھر یہ کہ گورنمنٹ آپ کی مدد کرتی ہے مسجدیں وغیرہ بنانے میں مدد کی۔میں نے تفصیل سے اس کا بھی جواب دیا۔میں نے کہا کوئی ثابت تو کرے کہ گورنمنٹ نے ہمیں ایک پیسہ کی بھی مدددی ہو لیکن ان کی اپنی مسجد میں گورنمنٹ کی امداد کی رہین منت ہیں۔ابھی کارڈف میں جو مسجد بنی وہ کولونیل آفس کی مدد سے بنی ہے۔احمدیت کتاب مطالعہ کیلئے انہیں دی۔(الفضل قادیان 8 دسمبر 1943ء)