حیات شمس — Page 391
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس مختلف شخصیات کو تبلیغ 375 مکتوب حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس ) [ جولائی 1943ء میں] مسٹر مائیکل جو مسٹرسٹن کے رشتہ دار ہیں ، برسٹل سے آئے۔عیسائیت اور اسلام کے متعلق گفتگو ہوئی۔ایک رسالہ پڑھنے کیلئے لے گئے۔(۲) ایک ہوٹل میں ایک جاوی سے جو حجاز میں دس سال رہ چکا ہے اور جاوا ( انڈونیشیا) میں ہماری جماعت سے بھی واقف ہے عربی میں گفتگو ہوئی اور مسجد کا پتہ دیا نیز ایک ترکی عورت سے بھی۔سید رضا شاہ لاہوری نے جو امتحان پاس کر کے ہندوستان واپس جا رہے ہیں خلق عالم اور قصہ آدم و حوا کے متعلق سوالات کئے۔جوابات سن کر خوش ہوئے۔مسٹر خدا بخش جو آنکھیں بند کر کے پڑھ لیتا ہے سن رہا تھا۔اس نے کہا مجھے یہ جوابات سن کر بہت خوشی ہوئی ہے اور بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئی ہیں۔(۳) منصور احمد کپڑ ڈ اپنے ساتھ ایک نوجوان لائے جس سے گفتگو ہوئی۔منصور نے اس کے متعلق بتایا کہ وہ بہت متاثر ہوا ہے اور اب قرآن مجید کا مطالعہ کر رہا ہے۔(۴) سائپرس کے ایک دوست مسجد دیکھنے کیلئے آئے۔ایک انگریز عورت سے شادی کی ہوئی ہے جس سے ایک لڑکی بھی ہے۔مسجد دیکھ کر خوش ہوئے۔Ahmadiyya Movement کتاب بھی خرید کر لے گئے ہیں پھر بھی آنے کا وعدہ کیا ہے۔(۵) اشتہار جو چھا پاتا تقریباً دو ہزار تقسیم کیا جا چکا ہے۔اپنے علاقہ میں بھی آٹھ سو تقسیم کروایا ہے۔(۶) ایک تحریک یہاں ویدا نیت سوسائٹی کی ہے راما کرشنا اس کا بانی ہے۔سوامی اور یکتا نندا یہاں دس سال سے کام کر رہا ہے ان کے بعض ممبر میلر وز روڈ میں بھی ہیں۔ان کے مکان پر ان کی سالانہ میٹنگ ہوئی تھی۔میں نے سیکرٹری کو بھیجا تھا اس نے تقریر سنی۔سوامی نے کہا کہ راما کرشنا نے تپتیا کر کے پتہ لگایا ہے کہ اسلام ، عیسائیت، ہندو وغیرہ مذاہب سچے ہیں۔ڈاکٹر Shaw اس کے پریذیڈنٹ ہیں انہیں چائے پر بلاؤں گا۔یہاں جو مذہبی تحریکیں پائی جاتی ہیں ان میں سے کوئی بھی تو ایسی نہیں جو انہیں اعمال کی طرف بلائے۔صرف خیالات ہیں جن کے اختیار کرنے سے انہیں کچھ کرنا نہیں پڑتا لیکن اب ان سب تحریکوں پر جب میں غور کرتا ہوں تو یقین رہتا ہے کہ آخر ایک دن ہمیں ضرور فتح ہوگی کیونکہ یہ سب تحریکیں ایسی ہیں جن کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں۔