حیات شمس

by Other Authors

Page 389 of 748

حیات شمس — Page 389

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 373 مسٹر جر کا ایک البانین جمعہ کی نماز کیلئے آئے۔یہ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو کنگ روغو کے ساتھ البانیہ سے نکل آئے۔مسٹر بدرالدین بانڈ دو دفعہ تشریف لائے۔عید پر بھی برائٹن سے آئے۔دوسرے دوست بھی وقتاً فوقتاً آتے رہے۔سر راما سوامی مد الیار اور جام صاحب آف نو انگر سے ملاقات ہوئی۔سر راما سوامی سے عید کے روز آنے کیلئے کہا تھا مگر اس دن وار کیبنٹ کی میٹنگ تھی اس لئے نہ آسکے۔۔۔عید کی تقریب پر اخبار South Western Star کا تبصرہ عید کی تقریب کے متعلق اخبار South Westem Star نے جو نوٹ لکھا اس کا حصہ پیش ہے: مسلمانوں کا تہوار عید الفطر مسجد ساؤتھ فیلڈز میں منایا گیا جو احباب نماز کیلئے تشریف لائے ان میں پانیر کور کے ہندوستانی دستہ کے لوگ R ASC کے ممبران اور انگریز مسلمانوں کی خاصی تعداد تھی۔اس اجتماع میں نماز مسٹر جے ڈی شمس کی اقتداء میں ادا کی۔۔۔اس کے بعد امام موصوف نے موجودہ جنگ کے متعلق امام جماعت احمدیہ کے بعض رؤیا اور کشوف کی طرف حاضرین کو تو جہ دلائی اور بتایا کہ تمبر 1940ء میں خدا تعالیٰ نے امام جماعت احمدیہ کو جنگ لیبیا کا نظارہ دکھلایا تھا اور ان پر منکشف کیا گیا تھا کہ دشمن برطانوی افواج کو دو یا تین دفعہ دھکیل کر پیچھے ہٹادے گا لیکن آخر کا راسے پسپا کر دیا جائے گا۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں آخر کار اتحادیوں کی فتح اسلام اور بنی نوع کیلئے مفید ثابت ہوگی اس لئے مناسب ہے کہ ہم اپنی دعاؤں میں ان کیلئے فتح طلب کرنا فراموش نہ کریں۔بلحاظ ایک مذہبی جماعت کا ممبر ہونے کے ہم گواہ ہیں کہ مذہبی آزادی عطا کرنے میں گورنمنٹ برطانیہ تمام دوسری حکومتوں سے ممتاز درجہ رکھتی ہے۔ہم مذہب کو تمام دوسری اشیاء پر فائق یقین کرتے ہیں اس لئے تمام ان حکومتوں کے مرہون احسان ہیں جنہوں نے مذہبی آزادی دے رکھی ہے۔نماز کے بعد حاضرین کو پنچ دیا گیا۔الفضل قادیان 26 مارچ1943ء) تبلیغی کاوشیں (1) مئی 1943ء میں] کرنل ڈگلس سے خط و کتابت ہوئی۔ڈاکٹر یو کے نے ایک کتاب لکھی تھی اس میں اس نے احمدیت کے متعلق بعض باتیں صحیح نہیں لکھی تھیں۔کرنل ڈگلس نے انہیں ان کی غلطی بتائی تھی اور اس کے متعلق مجھ سے بعض باتیں جماعت کے متعلق دریافت کی تھیں، ان کے خطوط کی نقول سن رائز کو بھیج چکا ہوں۔