حیات شمس — Page xlii
xli۔عرض مؤلف موضع سیکھواں قادیان سے جنوب مغرب کی جانب چار میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔اس گاؤں سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی فدائی اور جان نثار صحابہ پیدا ہوئے۔سیکھوانی برادران کو سیکھواں کی جماعت میں ایک خاص مقام و امتیاز حاصل ہے۔اس خاندان میں حضرت میاں جان محمد صاحب کشمیری ، حضرت خواجہ میاں محمد صدیق صاحب سیکھوائی اور آپ کے تین فرزندگان صالحین حضرت میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی ، حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی اور حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی رضی اللہ عنہم نیز اس خاندان کی خواتین کو بھی جن کا نام تاریخ لجنہ اماءاللہ میں محفوظ ہے، خدمات سلسلہ احمدیہ کی سعادت حاصل ہوئی۔حضرات سیکھوانی رضی اللہ عنہم کے اخلاص کا ذکر خیر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب و تحریرات میں بعض مقامات پر فرمایا ہے۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ، حضرت مولوی امام الدین صاحب سیکھوائی کے فرزند تھے جنہیں صحابی ہونے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔گویا مولانا موصوف صحابی ابن صحابی ابن صحابی کا شرف حاصل کئے ہوئے تھے۔حضرت مولانا شمس صاحب کو برصغیر ہندو پاک کے علاوہ بلا دعر بیہ اور انگلستان میں سالہا سال تک خدمات بجالانے کی سعادت حاصل ہوئی اور پھر ہندوستان اور پاکستان میں بھی متعددحیثیتوں سے خدمات بجالانے کی سعادت ملی۔امیر مقامی ،صدر مجلس کار پرداز اور مختلف نظارتوں میں آپ بطور ناظر انجمن احمد یہ بھی خدمات کی توفیق پاتے رہے۔میدان عمل میں آپ نے بیسیوں یادگار اور عہد ساز مباحثوں و مناظروں میں جماعت احمدیہ کی نمائندگی کی۔جماعتی وغیر ملکی اخبارات ورسائل میں آپ کو بیسیوں علمی، تربیتی تحقیقی اور دینی مضامین عربی، اردو اور انگریزی میں شائع کرنے کی توفیق ملی۔مقدمہ بہاولپور، فسادات 1953ء کی تحقیقاتی عدالت کے سوالات کے جوابات اور کتب و ملفوظات سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو روحانی خزائن کی سیریز میں شائع کرانے نیز ان کتب کا تعارف لکھنے اور ان کا اشاریہ تیار کرنے میں آپ کی خدمات یادگار ہیں۔ساٹھ سے زائد ٹھوس تالیفات اور سینکڑوں علمی مضامین بھی آپ کے علمی کارناموں کا ثبوت ہیں۔آپ کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہو ا۔آپ کو سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خالد احمدیت کے خطاب سے نوازا اور سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ” ہمارے بھائی ہمارے بزرگ قرار دیا۔زیر نظر کتاب میں اس مجاہد احمدیت کے عملی نمونوں کا تذکرہ