حیات شمس — Page 367
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس نے اپنے سعودی لہجہ میں اپنے وزیر شیخ حافظ و ہبہ سے ٹائلیٹ جانے کی حاجت کا ذکر کیا۔اس پر میں نے عرض کیا چلئے میں لے چلتا ہوں۔تعجب سے کہنے لگے آپ ہماری روز مرہ کی زبان بھی خوب سمجھتے ہیں معلوم ہوتا ہے آپ عربوں میں بھی رہے ہیں۔میں نے کہا جی ہاں میں نے تقریباً دو سال عرب ممالک میں گزارے ہیں۔کانفرنس کے افتتاح سے پہلے حضرت شمس صاحب نے انہیں مسجد دیکھنے کی دعوت دی، چنانچہ مع تمام مہمانان شاہ فیصل نے مسجد فضل دیکھی اور اندر محراب کے قریب چند منٹ کھڑے رہ کر حضرت شمس صاحب سے مسجد کے حالات سنتے رہے اور کہنے لگے۔میں تو سمجھ رہا تھا کہ چھوٹی سی مسجد ہوگی یہ تو خاصی بڑی مسجد ہے۔غالبا آپ نے بعد میں اس کی توسیع کی ہے“ مولانا شمس صاحب نے بتایا کہ نہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ابتداء ہی سے بڑی بنائی گئی ہے۔دیگر نمائندگان اور مہمان بھی مسجد اور دار التبلیغ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔اس موقع پر حضرت مولانا شمس صاحب نے شاہ فیصل کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے مطلع کرتے ہوئے حضور کی کتاب مسنن الرحمن اور التبلیغ اور بعض دیگر عربی کتب خوبصورت جلدوں میں بطور ہد یہ پیش کیں اور فرمایا۔بارک اللہ فی مساعیکم۔کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر دو انگریز نو مسلموں مسٹر بلال نقل اور عبد الرحمن ہارڈی نے تلاوت کی جس کے بعد حضرت مولانا صاحب نے عربی میں خیر مقدم ایڈریس پیش کیا۔ایڈریس کی ابتداء میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا عرب مندوبین کے نام مندرجہ ذیل پیغام پڑھ کر سنایا گیا: میری طرف سے ہز رائل ہائینس امیر فیصل اور فلسطین کانفرنس کے دیگر نمائندگان کو خوش آمدید کہیں اور یقین دلائیں کہ جماعت احمد یہ پوری طرح ان کے ساتھ ہے اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کامیابی عطا کرے اور تمام عرب ممالک کو کامیابی کی راہ پر چلائے اور ان کو عالم اسلامی کی لیڈرشپ عطا کرے۔وہ لیڈرشپ جو ان کو اسلام کی پہلی صدیوں میں حاصل تھی۔“ وو اس کے علاوہ حضرت مولانا شمس صاحب نے جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے برطانوی 351