حیات شمس

by Other Authors

Page 366 of 748

حیات شمس — Page 366

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 350 پرنس فیصل تھے سے دو ملاقاتیں کیں۔پہلی ملاقات فروری 1939 ء میں ہوئی ، جبکہ دوسری 1944ء میں۔پہلی ملاقات کے بارہ میں الحاج مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری جوان ایام میں نائب امام مسجد فضل لندن تھے تحریر کرتے ہیں: ماہ فروری 1939ء میں برطانوی حکومت نے قضیہ فلسطین کے کسی مناسب حل کی تلاش کیلئے لندن میں عرب ممالک کی ایک کانفرنس منعقد کی جس میں فلسطین، عراق، یمن سعودی عرب، مصر، شام، اردن، وغیرہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔جماعت احمد یہ یہودیوں کے مقابل پر ہمیشہ عربوں کا ساتھ دیتی رہی ہے۔چنانچہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس مرحوم امام مسجد فضل لندن نے اس موقعہ پر انہی دنوں مسجد فضل لندن میں عرب ممالک کے تمام نمائندوں کے اعزاز میں ایک پارٹی دی جس میں ولیعہد امیر فیصل (بعد میں شاہ فیصل) اور حکومت سعودی عرب کے نمائندہ الشیخ ابراہیم سلیمان رئیس النيابة العامۃ اور شیخ حافظ و ہبہ سفیر سعودی عرب اور فلسطین کے نمائندگان عونی بک الہادی، القاضی علی العمری اور القاضی محمد الشامی وغیرہ مندوبین کے علاوہ مختلف ممالک کے سفراء لندن شہر کے اکابر ہمبران پارلیمنٹ اور کئی ایک سرنائٹ جرنیل اور دوصد کے قریب دیگر بڑے اہل منصب انگریز شامل ہوئے نیز ہائی کمشنر فار انڈیا سردار بہادر موہن سنگھ آف راولپنڈی ممبر کونسل فار انڈیا اور لندن میں مقیم دیگر سرکردہ ہندوستانیوں کو بھی مدعو کیا گیا۔یہ خاکساراس زمانہ میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے ساتھ بطور نائب امام مسجد متعین تھا۔اس تقریب کے موقعہ پر محترم کرنل عطاء اللہ صاحب مرحوم آف لاہور، محترم میرعبدالسلام صاحب مرحوم آف سیالکوٹ اور خاکسار احمد یہ دار التبلیغ سے باہر گیٹ پر معزز مہمانوں کے استقبال کیلئے مامور تھے۔شاہ فیصل اور ان کے ساتھیوں کی آمد پر مولانا شمس صاحب خود بھی ان کے خیر مقدم کیلئے آگئے اور دیگر مہمانوں کے تشریف لے آنے تک انہیں کچھ دیر کیلئے احمد یہ دار التبلیغ کے ڈرائنگ روم میں ہی بٹھایا گیا۔چونکہ مولا نائس صاحب اور خاکسار کے علاوہ ان کے ساتھ عربی میں گفتگو کرنے والا اس وقت وہاں اور کوئی موجود نہیں تھا اس لئے دور ان کا نفرنس خاکسار ان کے ساتھ رہا اور حضرت مولانا صاحب دیگر امور میں مصروف رہے۔چند منٹ کے بعد شاہ فیصل