حیات شمس — Page 353
حیات بشمس۔خالد احمد بیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 337 وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (الكيف:30) لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ (البقرہ: 257) مذہبی معاملات میں آزادی ضمیر اس قدر لازمی سمجھی گئی ہے کہ اسلام میں جارحانہ مذہبی جنگ بالکل جائز نہیں۔صرف مذہبی آزادی کے قیام کیلئے مدافعانہ رنگ میں جنگ کی اجازت ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : دو 66 جنگ کرو ان لوگوں سے جو تم پر حملہ کرتے ہیں، اس وقت تک کہ مذہبی آزادی قائم ہو جائے تا انسان مذہب کو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر قبول کرے اور کوئی شخص اس کے اخلاق کے روحانی تعلقات میں دخل اندازی نہ کر سکے۔“ 2۔جھگڑے بسا اوقات اس وجہ سے بھی نمودار ہوتے ہیں کہ ایک مذہب کے پیروکار دوسرے مذاہب کے انبیاء و مصلحین کو کا ذب اور مفتری خیال کرتے اور صرف خود کو سچائی پر کاذب قائم اور اللہ تعالیٰ کی مقرب اور پیاری جماعت سمجھتے ہیں۔ایسے گندے خیالات نفرت پیدا کرتے ہیں اور شورشوں، جھگڑوں اور اضطراب کا موجب ہوتے ہیں۔حتی کہ بعض اوقات خون خرابہ تک نوبت پہنچتی ہے لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جبکہ ہر ایک قوم دوسری اقوام کے انبیاء اور بانیوں کو جھوٹا خیال کرتی تھی اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اعلان فرمایا: دنیا میں کوئی ایسی قوم نہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں میں سے ان کی راہنمائی کیلئے کوئی نبی مبعوث نہ کیا ہو۔وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر :25) یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات مبارک تھی جس نے ہندؤوں ، پارسیوں، یہودیوں اور عیسائیوں اور دوسری اقوام کے انبیاء کے متعلق حق کا اظہار فرمایا اور اس طرح مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان امن اور اخوت کی بنیا درکھی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اگر دوسرے مذاہب کے متبع بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں جس طرح کہ مسلمان لائے تب وہ حقیقت میں صراط مستقیم پر ہیں لیکن اگر وہ اپنی پیٹھیں پھیر لیں تو یقیناً بہت بڑی مخالفت میں ہیں، یعنی مذاہب کے مکمل اتحاد میں وہ محض ایک رکاوٹ ہیں۔3۔اسلام نے مسلمانوں کو گندی زبان کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔یعنی مختلف مذاہب کے لیڈروں اور جماعتوں اور ان کی تعلیمات کو برے الفاظ سے ذکر کرنے کی اجازت نہیں