حیات شمس — Page 338
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 322 انجیل چہارم کے بیان کے مطابق مسیح آخری دفعہ اپنے شاگردوں سے بحیرہ روم پر ملے اور پطرس سے کہا کہ تم میری بھیڑوں کو چراؤ یا نگہبانی کرو اور انہیں خدا حافظ کہہ کر ایک نامعلوم مقام پر چلے گئے۔یہ ایک مشہور و معروف واقعہ ہے کہ بارہ حواریوں میں سے تو ما حواری ہندوستان آئے تھے اور ان کی قبر مدراس ( چتائی ) میں واقع ہے لیکن حضرت احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک نیا انکشاف کیا ہے جس نے مسیح کے صعوداً الى السماء کی تھیوری کو بالکل غلط ثابت کر دیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح کی قبر کا پتہ لگ گیا ہے اور واقعات صحیحہ اور دلائل قویہ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ اس قبر میں مسیح ابن مریم مدفون ہیں۔یہ قبر محلہ خان یارسری نگر کشمیر میں واقع ہے جس میں پہلے بھی بنی اسرائیل کے بعض گمشدہ فرقے آباد تھے اور اب تک آباد ہیں۔مزید برآں مجھے یقین ہے کہ اگر ماہرین علم آثار قدیمہ اس قبر کو کھدوا کر تحقیق کریں تو انہیں ضرور ایسی تحریریں یا ایسے آثارمل جائیں گے جن سے یہ ثابت ہوگا کہ اس قبر میں وہی صحیح مدفون ہے جس کی صدیوں تک غلطی سے عبادت کی گئی اور اسے خدا بنایا گیا۔اس اشتہار میں مقبرہ مسیح کا فوٹو بھی دیا گیا ہے۔فی الحال پانچ ہزار کی تعداد میں چھپوایا گیا ہے۔اس کی تقسیم کے بعد پانچ ہزار اور چھپوایا جائے گا۔اس اشتہار کی تقسیم کے متعلق میں انشاء اللہ تعالیٰ پھر عرض کروں گا۔لنڈن میں عید الفطر کی نماز (الفضل قادیان یکم جنوری 1939ء) انگلستان میں صرف دو مسجد میں ہیں۔ایک ووکنگ میں جو ایک غیر مسلم انگریز نے بعض سیاسی اغراض کے ماتحت بنائی تھی۔وہ ایک کمرہ ہے جس کے اوپر گنبد بنا ہوا ہے اور اس کے اندر منبر بھی ہے۔بنانے والے کی ایک غرض اپنے ہم وطنوں کو مسلمانوں کی مسجدوں کا نمونہ دکھانا بھی تھی۔موجودہ متولیوں نے اس کے اندر کرسیاں رکھی ہوئی ہیں تا آنے والے انگریز اس کے اندر جو تیوں سمیت آسانی سے بیٹھ سکیں۔اس میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی اور نہ ہی عید کی نماز۔جمعہ کی نماز وہ شہر لنڈن میں ایک کمرہ میں ادا کرتے ہیں اور عید کی نماز انہیں خیمہ میں ادا کرنی پڑتی ہے۔غرضیکہ اس مسجد کے بانی نے جس غرض سے وہ مسجد بنائی تھی موجودہ متولیوں کے ذریعہ وہ غرض باحسن وجوہ پوری ہو رہی ہے۔دوسری مسجد وہ ہے جو شہر لنڈن میں واقع ہے جس کا سنگ بنیاد اللہ تعالیٰ کے خلیفہ محمود نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے رکھا۔جس کا نام مسجد فضل ہے اور جس کے بنانے کی ہمت اور توفیق اللہ تعالیٰ نے اس