حیات شمس — Page 337
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس وو مسیح کی قبر ہندوستان میں‘ کا اعلان یورپ میں 321 ( حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) مندرجہ ذیل سطور لکھتے ہوئے قلب میں مسرت و انبساط محسوس کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ جس نے خاکسار کو حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ذرہ نوازی کے صدقہ اس امر کا موقعہ عطا فرمایا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک خواہش اور منشاء کے مطابق ایک اشتہار شائع کروں۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ( اللہ تعالیٰ انہیں عمر دراز عطا فرمائے ) ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے تمام مخلص و صادق احمدی تا قیامت اس لئے رہین منت رہیں گے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک ملفوظات کو اپنے قلم سے جمع کر کے ان کیلئے آسمانی مائدہ مہیا کیا۔جزاہ اللہ خیرا فی الدنيا والآخرة اسوقت میں بھی ان کے متعلق اپنے قلب میں شکر و امتنان کے جذبات موجزن پاتا ہوں کیونکہ وہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو جس کے پورا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے مجھے موقعہ دیا ہے اپنے ہاتھ سے قلمبند کر کے اور اپنے اخبار میں شائع کر کے ہم تک پہنچایا اور وہ خواہش یہ ہے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یورپ اور دوسرے ملکوں میں ہم ایک اشتہار شائع کرنا چاہتے ہیں جو بہت ہی مختصر ایک چھوٹے سے صفحے کا ہو تا کہ سب اسے پڑھ لیں۔اس کا مضمون اتنا ہی ہو کہ مسیح کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے جو واقعات صحیحہ کی بناء پر ثابت ہو گئی ہے۔اس کے متعلق مزید حالات اور واقفیت اگر کوئی معلوم کرنا چاہے تو ہم سے کرے۔اس قسم کا اشتہار ہو جو بہت کثرت سے چھپوا کر شائع کیا جائے“۔الحکم قادیان 10 جولائی 1902 صفحہ 3) اس کے مطابق خاکسار نے ایک اشتہار چھپوایا ہے جس کا عنوان ہے ” مسیح کی قبر ہندوستان میں“ اور اس کا مضمون مندرجہ ذیل ہے۔” بھائیو! یادر ہے کہ مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئی حضرت احمد قادیانی ( پنجاب، ہند ) کی آمد سے پوری ہوگئی ہے جو احمد یہ جماعت کے مقدس بانی ہیں اور جو تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔انہوں نے ناقابل تردید دلائل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرے تھے بلکہ وہ قبر سے فانی جسم کے ساتھ نکلے جو گوشت اور ہڈیوں کا تھا۔