حیات شمس — Page 318
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 302 ہوا۔سو اس شہر کیلئے خاص طور پر دعا فرما ئیں کہ اللہ تعالیٰ یہاں ایک ایسی مضبوط اور مخلص جماعت پیدا کر دے جو آئندہ دوسروں کیلئے ہدایت کا موجب بنے۔مین۔گزشتہ سال بھی ماہ رمضان المبارک کی آمد پر میں نے احباب سے دعا کیلئے درخواست کی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ احباب نے پورے جوش کے ساتھ دعائیں کی ہوں گی اور خدام کی دعائیں اپنے آقا و مطاع حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی توجہ مبارک اور دعاؤں کے ساتھ مل کر اس امر کا باعث ہوئیں کہ اس سال اللہ تعالیٰ نے بعض انگریز مرد اور عورتوں کو اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔دعاؤں کے علاوہ بعض دوستوں نے کتابیں بھیج کر بھی امداد کی ہے۔دعائیں کرنے والے اور کتابیں بھیجنے والے سب دوست ہمارے ساتھ تبلیغ کے ثواب میں شریک ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اس قربانی کو قبول فرمائے اور آئندہ اور بھی زیادہ قربانی کی توفیق عطا فرمائے۔اب میں پھر دوبارہ احباب سے دعا کیلئے درخواست کرتا ہوں کیونکہ یورپ میں اشاعت اسلام کا سب سے بڑا ذریعہ دردمند دلوں سے نکلی ہوئی دعائیں ہیں۔مسٹر Arford کا قبول اسلام مسٹر Arford جو ان میں عمر قریباً چھبیس سال ہے۔اسلام سے انہیں پہلے سے دلچسپی تھی وہ دار التبلیغ تشریف لائے۔میں نے ان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے متعلق ذکر کیا اور مسئلہ صلیب پر گفتگو ہوئی۔انہوں نے سن کر کہا کہ میں نے مرا کو میں مسلمانوں سے سنا تھا کہ مسیح کی بجائے کسی اور کو صلیب پر لٹکایا گیا تھا اور مسیح آسمان پر اٹھالئے گئے جو مجھے نہایت غیر معقول معلوم ہوا تھا۔آپ نے جو نظریہ پیش کیا ہے وہ بہت معقول اور قابل تسلیم ہے۔میں نے انہیں تحفہ شہزادہ ویلز اور احمدیت مطالعہ کیلئے دیں۔چنانچہ ان کے مطالعہ کے بعد تشریف لائے اور چند سوالات دریافت کئے جن کے تسلی بخش جواب پا کر بیعت فارم پر کر کے سلسلہ میں داخل ہو گئے۔نیز ایک ہندوستانی مرزا محمد محسن صاحب سلسلہ میں داخل ہوئے ، اللہ تعالیٰ دونوں کو استقامت عطا فرمائے امین۔(الفضل قادیان 2 نومبر 1937ء) تبلیغ احمدیت (حضرت مولانا جلال الدین شمس) نومبر 1937 ء) میں بہت سے اشخاص دار التبلیغ میں تشریف لائے جن سے مذہبی گفتگو بھی ہوتی رہی۔ایک روز ہماری نو مسلم بہن سلیمہ کے ساتھ سات مردو عورتیں دار التبلیغ میں آئے جنہیں مکرمی درد