حیات شمس — Page 304
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس ہے۔اس کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 288 مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَاب - (المؤمن: 41) جو کوئی مومن مرد ہو یا عورت، نیک کام کریں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور انہیں بغیر حساب رزق دیا جائے گا۔پھر احزاب رکوع ۵ کی آیت إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ پیش کی جس میں ہر عبادت کا ذکر کرتے ہوئے مردوں اور عورتوں کا مساوی طو پر ذکر کیا ہے اور آخر میں فرمایا ہے اَعَدَّ اللهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيماً کہ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے مغفرت اور اجر عظیم تیار کیا ہے۔پھر سورۃ روم کی آیت پیش کی۔وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً (الروم :22) یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے پیدا کیے یعنی جس قسم کے جذبات اور احساسات اور خواہشات تمہیں دیے گئے اسی قسم کے جذبات و احساسات اور خواہشات عورتوں میں ودیعت کئے گئے اور پھر تمہارے درمیان محبت اور رحم پیدا کیا یعنی ازدواجی زندگی کی احساس محبت اور رحم پر رکھی گئی ہے یہ نہیں کہ چونکہ عورت مرد کی خاطر پیدا کی گئی ہے نہ کہ مرد عورت کیلئے اس لئے عورت مقہور رہنی چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محبت اور رحم کی زنجیر سے دونوں کو ہم نے جکڑا ہے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خُذُوا نِصْفَ دِيْنِكُمْ مِنْ هَذِهِ الْحُمَيْرَاءَ اسنی المطالب ، جلد 1 صفحہ 131) کہ اے مرد و تم نصف دین حضرت عائشہ سے سیکھو۔پھر احادیث اور تاریخ سے ثابت ہے کہ بڑے بڑے صحابہ مشکل ترین مسائل کاحل حضرت عائشہ سے دریافت کیا کرتے تھے اور جب آنحضرت ھے وعظ فرمایا کرتے اگر کوئی دریافت کرنے والی بات ہوتی تو عورتیں اسی وقت سوال کر کے دریافت کرلیتیں۔پھر قرآن میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ آدم سے غلطی کا باعث عورت تھی اور وہ گمراہ ہوئی بلکہ فرمایا وَعَصَى آدَمُ فَغَولی کہ آدم کی غلطی تھی۔غرضیکہ اسلام نے جو درجہ اور حقوق عورت کو دیئے ہیں عیسائیت نے قطعاً نہیں دیئے۔مسز آرنلڈ نے کہا اصل میں اسلام کی طرف غلط باتیں منسوب کر کے یہاں مشہور کی گئی ہیں۔غرضیکہ جس قدر مسائل کے متعلق انہوں نے دریافت کیا ان کے جواب سننے پر اطمینان اور تسلی کا اظہار کیا۔آخر 29 مارچ کو احمدیت قبول کر کے احمد علیہ السلام کے حلقہ خدام میں داخل ہو گئے۔الفضل قادیان 25 اپریل 1937ء)