حیات شمس — Page 279
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 263 یکم فروری 1936ء کو حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اور 26 فروری 1936ء کو حضرت مولانا شیر علی صاحب بھی ترجمۃ القرآن انگریزی کے سلسلہ میں لنڈن روانہ ہوئے۔9 نومبر 1938ء کو حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد، حضرت مولانا شیر علی صاحب اور تمام صاحبزادگان صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب۔صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب۔صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا سعید احمد صاحب ] قادیان آگئے اور حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس انچارج مشن کے فرائض سرانجام دینے لگے۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس 19 نومبر 1946ء کو قادیان تشریف لائے اور آپ کی جگہ مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ امام مسجد بنے۔ماخوز از تاریخ احمدیت جلد 5 ، طبع اول ، صفحات 164-166) مغربی ممالک میں تبلیغ کا فریضہ سر انجام دینے والے مبلغین کو نہایت اہم ہدایات سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مغرب میں تبلیغ اسلام کرنے والے مبلغین کیلئے اہم نصائح 21 اکتوبر 1936ء بمقام قادیان ارشاد فرمائیں۔یہ وہ موقعہ تھا جب بعض مبلغین فریضہ تبلیغ اسلام کی ادا ئیگی کیلئے دیار مغرب کو روانہ ہونے والے تھے۔آپ نے یہ خطاب تحریک جدید کے طلباء سے ارشاد فرمایا۔حضور نے ان پر معارف نصائح کے آخر میں فرمایا: قدرت ثانیہ آئی اور اس کا ظہور ہو ا مگر افسوس کئی لوگ ہیں جنہوں نے اس کو شناخت نہیں کیا۔میں دنیا کے ہر مقدس سے مقدس مقام پر کھڑے ہو کر خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ جس قدرت ثانیہ کا ظہور ہونا تھا وہ ہو چکا اور وہی ذریعہ ہے آج احمدیت کی ترقی کا۔۔۔۔پس ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو تحریک جدید کو خود بھی سمجھیں اور دوسرے لوگوں کو بھی سمجھا ئیں اور اس بات کو مدنظر رکھیں کہ تحریک جدید کو مضبوطی سے قائم رکھنا ان کا فرض ہے۔اس بارہ میں افسروں کی ذمہ واری نہایت اہم ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ طلباء کو بار بار اس تحریک کی اغراض اور اس کے مقاصد سمجھا ئیں جس دن اس تحریک کو پوری طرح سمجھ کر ہمارے طلباء باہر نکلے اور اس روح کو لے کر نکلے جو تحریک جدید کے ذریعہ ان میں پیدا ہونی ضروری ہے یہ قومی طور پر ہمارا پہلا چیلنج ہوگا کہ اگر دنیا میں کوئی قوم زندہ ہے تو وہ ہماری