حیات شمس — Page 278
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 262 انگلستان میں اگر چہ 1913ء میں مکرم خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے ذریعہ و و کنگ مشن کا آغاز ہو چکا تھا اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال گو جولائی 1913ء کو بیرونی مشن کی بنیاد رکھ چکے تھے تا ہم اس کا مستقل آغاز 1914ء میں ہوا جبکہ محترم سیال صاحب و و کنگ چھوڑ کر لندن تشریف لے آئے اور یہاں کرایہ کے ایک مکان کو مرکز بنا کر تبلیغ اسلام کا کام شروع کر دیا۔پہلا شخص جو آپ کے ہاتھ پر اسلام میں داخل ہوا ایک صحافی کو ریو Mr Corio نامی تھا۔حضرت چوہدری صاحب کی واپسی تک قریباً ایک درجن انگریز مسلمان ہو چکے تھے۔ستمبر 1915ء کو حضرت قاضی محمدعبداللہ صاحب رضی اللہ عنہ بے اے بی ٹی انگلستان کیلئے تبلیغ وخدمت اسلام کیلئے روانہ ہوئے اور پورے چار سال تک وہاں خدمات بجالاتے رہے۔جب 6 ستمبر 1915ء کو حضرت قاضی حمد عبد اللہ رضی اللہ عنہ بی۔اے بی ٹی انگلستان کیلئے تبلیغ وخدمت اسلام کیلئے روانہ ہوئے تو اس موقعہ پر سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے حضرت قاضی صاحب کو 14 نہایت زریں نصائح فرما ئیں جو مبلغین سلسلہ کے لئے بالخصوص بیرونی ممالک میں خدمات بجالانے والے سب مبلغین کیلئے لائحہ عمل، مشعل راہ اور قندیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔تفصیل کیلئے دیکھیں الفضل قادیان 14 ستمبر 1915ء۔انگلستان مشن کے لئے مختلف اوقات میں سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ارشاد پر مختلف اصحاب و احباب کو مقرر کیا جاتا رہا جن میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔حضرت مولانا عبدالرحیم نیر صاحب۔چوہدری مبارک علی صاحب اور ملک غلام فرید صاحب شامل ہیں۔حضرت مولانا عبد الرحیم نیر صاحب کے دور میں سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی بنفس نفیس ویمبلے کانفرنس میں شرکت کیلئے لندن تشریف لے گئے اور اپنے دست مبارک سے 19 اکتوبر 1924ء کو مسجد فضل لندن کا سنگ بنیاد رکھا۔سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے وجود باجود سے لندن مشن کو عالمگیر شہرت حاصل ہوگئی اور لندن کی مذہبی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نومبر 1924ء میں مع اپنے قافلہ کے خدام نیز حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب غیر کو ساتھ لے کر واپس قادیان تشریف لے آئے اور لندن مشن کے انچارج حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد اور ان کے نائب مکرم ملک غلام فرید صاحب مقرر ہوئے۔( مزید تفصیل کیلئے دیکھئے تواریخ مسجد فضل لندن، تاریخ احمدیت جلد چهارم و پنجم )