حیات شمس

by Other Authors

Page 267 of 748

حیات شمس — Page 267

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 251 چنانچہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ایک کارکن صوفی عبد القدیر صاحب بی۔اے۔سابق مبلغ اسلام لنڈن کو کشمیر گورنمنٹ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ چوبیس گھنٹہ کے اندر اندر حدود ریاست سے نکل جائیں۔اس کے مقابلہ میں ہندو مہاسبھا کے وہ ایجنٹ بے حد مبالغہ آمیز اور اشتعال انگیز خبروں کی اشاعت کر کے فتنہ وفساد کی آگ کو ہوا دینے میں شب و روز مصروف ہیں کھلے بندوں وہاں دندناتے پھرتے ہیں۔اپنے جلسے کرتے ہیں اور ارکان حکومت سے ملاقاتیں کرتے ہیں حالانکہ عارضی طور پر اس علاقہ میں جانے والوں اور حالات کا سرسری مطالعہ کرنے والوں پر بھی یہ امر روشن ہے کہ یہ سب شرارت انہی فتنہ پردازوں کی ہے۔چنانچہ موقر معاصر سیٹسمین۔سٹیٹسمین کے ایک غیر جانبدار انگریز نامہ نگار نے 4 فروری 1932ء کی اشاعت میں اس امر کا صاف طور پر ذکر کیا ہے کہ ہندومہاسبھا کے کارندے بے بنیاد خبریں ارسال کر کے برطانوی ہند میں اشتعال پیدا کر رہے ہیں۔ایسی صورت میں ریاست کشمیر کی بدقسمتی پر کسے افسوس نہ ہو گا جو امن پسند اور آئینی جدو جہد کرنے والوں سے تو دشمنوں والا سلوک کر رہی ہے لیکن فتنہ انگیزوں کو ملک میں آگ لگانے کے لئے اس نے کھلا چھوڑ رکھا ہے بلکہ ہر طرح سے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔اس موقعہ پر یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ ابھی تک مجلس احرار کے کارندے بھی علاقہ جموں وکشمیر میں بلا روک ٹوک آزادی کے ساتھ جو چاہتے ہیں کر رہے ہیں اور ریاست کے حکام کی طرف سے ان سے کوئی تعرض نہیں ہوتا حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ احراریوں کی پالیسی آل انڈ یا کشمیر کمیٹی کی پالیسی کی نسبت نہ صرف بہت زیادہ سخت بلکہ کئی لحاظ سے غیر آئینی بھی ہے۔ہم نے باوجود احرار سے بہت اختلافات رکھنے اور ان کے طریق کے اسلامی مفاد کے خلاف ہونے کے کبھی ان سے الجھنا پسند نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان کو اُن کے حال پر چھوڑے رکھا ہے اور اب تک بھی ہمارا یہی مسلک ہے لیکن حکام ریاست کا احراری کارکنوں سے تو کسی قسم کا تعرض نہ کرنا اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے کارکنوں کو اخراج کا حکم دے دینا اس بات کو یقینی طور پر ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں حکام ریاست احرار کے کام کو بالواسطہ طور پر اپنے مطلب کے پاتے ہیں کیونکہ وہ اس کی آڑ میں نہ صرف غریب مسلمانوں کو مظالم کا نشانہ بنا سکتے ہیں بلکہ اس معاملہ میں ہم احرار کی نیت پر کوئی حملہ نہیں کرتے مگر ریاست کی بدنیتی ظاہر ہے۔الفضل قادیان 9 فروری 1932 ء)