حیات شمس — Page 234
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 218 ہوئی ہیں۔ایک روز تو بازار میں ہی ایک پادری سے گفتگو شروع ہوگئی۔بہت سے لوگ جمع ہوگئے پادری میرے سوالوں کا جواب نہ دے سکا اور جو بات وہ کرتا اسے ندامت اٹھانی پڑتی۔مسلمان اس سے بہت خوش ہوئے۔آپ کے عراقی اور مصری طالب علموں سے بھی احمدیت کے متعلق مکالمات ہوئے ہیں۔دکتو رصدی آفندی النعمانی حمص سے تحریر فرماتے ہیں کہ مجھے آپ کی کتب جو میزان الاقوال، الهدية السنية ، البرهان الصريح وغیرہ ہیں ان کے مطالعہ سے مجھے ان لوگوں کی حالت پر سخت افسوس آیا جنہوں نے ناحق آپ کے متعلق کا فر وغیرہ کے الفاظ تحریر کئے ہیں۔میں نے چند سوالات آپ کی خدمت میں لکھے تھے۔ان کے جوابات کا انتظار ہے۔(ان کے سوالات کا الفضل قادیان 16 اکتوبر 1930ء) جواب دیا جا چکا ہے۔) مباحثہ کبابیر (حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) جب میں دمشق سے حیفا پہنچا اور اور لوگوں کو سلسلہ حقہ کے متعلق علم ہوا اور مشائخ نے دیکھا کہ لوگ متاثر ہورہے ہیں شیخ کامل قصاب سے جو ان میں ایک مشہور لیکچرارشمار کیا جاتا ہے میرا مباحثہ قرار پایا جو دو روز تک ہوا جس میں اسے سخت ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑا۔پھر اس کے بعد ڈیڑھ سال تک کسی مولوی نے مباحثہ کی تمنا نہ کی۔آخر انہوں نے المجلس الاسلامی الا علی کولکھ کر قدس سے ایک مولوی مراد الاصفہانی منگوایا جس نے لیکچروں میں ہمارے خلاف زہر اگلا۔اس سے مباحثہ کیلئے خط و کتابت ہوئی مگر اس نے ہماری معقول پیش کردہ شرطوں کو نا منظور کیا۔جب ہم نے اس کی بعض شروط کو قبول کر لیا تو اس نے انہیں بدل دیا۔اس خط و کتابت میں جو جماعت احمدیہ حیفا اور جمعیة الشبان المسلمین حیفا کے درمیان پانچ چھ روز تک ہوئی مباحثہ کی شروط کے متعلق کامل بحث ہوئی جو انشاء اللہ فلسطین میں احمدیت کی تاریخ میں بطور یادگار رہے گی۔اس کے بعد مسلمانوں اور یہود میں فساد ہو گیا۔2 دسمبر 1929ء۔میں چھ ماہ کیلئے مصر آ گیا۔پھر مئی میں واپس گیا تو کہا بیر گاؤں کے ایک سو بارہ نفوس میں سے پچھتر نفوس احمدیت میں داخل ہو گئے۔چونکہ یہ لوگ بلحاظ نیکی و تقوی و امانت و دیانت ارد گرد کے دیہاتوں میں مشہور تھے اس لئے پھر مشائخ میں جوش پیدا ہوا مگر کسی کو مباحثہ کیلئے جرات نہ ہوتی تھی۔ماہ اگست میں اہل کہا بیر کی درخواست پر ان