حیات شمس

by Other Authors

Page 198 of 748

حیات شمس — Page 198

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 182 دروازہ کھلا تھا۔اس میں جلدی سے داخل ہو گیا اور انہیں کہا دیکھو مجھے کسی نے خنجر مارا ہے۔آخر وہ اترے اس وقت خون زور سے بہہ رہا تھا۔میں اپنے مکان کے دروازہ میں بیہوش ہو کر گر پڑا۔پولیس پہنچی۔آدھ گھنٹہ تقریباً اپنے کاغذات وغیرہ پر کر کے مجھے ہسپتال میں لائے۔پہلے پہل جب میں نے محسوس کیا کہ مجھے کوئی پکڑنا چاہتا ہے۔اس وقت در حقیقت اس نے خنجر سے ضرب لگائی تھی اور وہ گری اور دائیں شانہ کی ہڈی کے درمیان تھی۔جب ہسپتال میں لائے میرے تمام کپڑے خون سے رنگے ہوئے تھے اور جسم بھی خون سے بھرا ہو ا تھا۔ڈاکٹر نے خود زخم کو اور وسیع کر کے خون نکالا جو زخم شانہ کے قریب تھا وہ نہایت گہرا تھا۔دوشر یا نیں بھی کٹ گئیں۔آخر صاف کر کے انہوں نے زخم سی دیئے۔احمدی بھی یہاں پہنچ گئے۔نہایت افسردہ خاطر ہوئے کیونکہ وہ ڈاکٹروں کو خفیہ طور پر باتیں کرتے سن چکے تھے کہ بچنے کی امید نہیں ہے۔میری یہ حالت تھی کہ ضعف اور زخموں کے درد کی وجہ سے زیادہ بول بھی نہیں سکتا تھا۔میں نے منیر آفندی الحصنی سے اس وقت کہدیا کہ جو روپیہ میرے پاس باقی ہے اور کچھ فلاں شخص کے پاس ہے یہ سب جماعت کا ہے آپ کو یہ قادیان پہنچادینا ہوگا اور حضرت صاحب کو جس قدر جلد ہو سکے ایک تار روانہ کر دیں۔اسی حالت میں بعض مسلم اور غیر مسلم کہتے یہ کیسا بر افعل ہے۔تو میں انہیں یہی جواب دیتا تھا کہ مجھے اپنی جان جانے کا قطعاً افسوس نہیں ہے۔میرے ہی بھائی تھے جو افغانستان میں اسی امر حق کیلئے سنگسار کئے گئے لیکن مجھے افسوس ہے تو اس بات کا کہ مجھے مارنے والا اور جن کے مشورہ سے اس نے ایسا کام کیا وہ اپنے آپ کو بادشاہ امن یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے والے ہیں لیکن یہ آپ کے نادان دوست ہیں جو اپنے سفا کا نہ فعلوں سے اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔خدا اور اس کا رسول ایسے کاموں سے بیزار ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جہانوں کیلئے رحمت بن کر آئے تھے نہ کہ عذاب۔وہ لوگوں کو زندگی بخشنے کے لئے آئے تھے نہ کہ جانیں لینے کیلئے۔میرے ذمہ ایک کام تھا کہ میں انہیں پہنچا دوں۔آنے والا مسیح آچکا ہے۔ہاں وہ شاہزادہ امن جس کی ہزاروں سال سے آمد کی راہ تک رہے تھے وہ آ گیا ہے۔سو میرے خون کا ایک ایک قطرہ اس بات کا گواہ ہو گیا ہے کہ میں نے انہیں مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچا دیا جس کے جواب میں انہوں نے میرا خون گرایا۔