حیات شمس

by Other Authors

Page 197 of 748

حیات شمس — Page 197

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس بھی ایسا ہو مگر صدق اور حق کی قوت تھی اور جب کبھی ایسا خیال آتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شعر زبان پر آجاتا تھا۔ولست اخاف من موتی و قتلی اذا ما كان موتى في الجهاد دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی کتاب تذکرۃ الشہا دتین میں ایک عبارت ہے جو ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتی ہے۔مجھے خوب یاد ہے جب میں نے اسے پہلی بار پڑھا تو اس نے میرے جسم میں ایک بجلی کی سی تاثیر کی تھی۔اس وقت میں سخت رویا تھا اور اسی وقت خدا تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اے خدا ہمیں بھی سید عبداللطیف صاحب شہید سا صدق وو و استقامت عطا فرما۔اس عبارت کے الفاظ تقریباً یہ ہیں۔181 ” اے عبد اللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی صدق کا نمونہ دکھایا۔اور جو میری جماعت میں سے میری موت کے بعد ر ہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔“ تذكرة الشہادتین، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 60] اسی طرح میرے ایک معزز دوست نے قادیان سے لکھا کہ اگر دمشق کی بجائے جدہ میں آپ جا کر تبلیغ کریں تو وہاں سے سب ممالک میں تبلیغ کر سکیں گے تو میں نے انہیں یہی جواب دیا تھا کہ میں تو حکم کا بندہ ہوں جیسا حضرت صاحب ارشاد فرمائیں گے بجالاؤں گا لیکن اگر مجھ پر چھوڑا جائے تو میں اسی بات کو ترجیح دوں گا کہ یا تو تبلیغ کرتے کرتے یہاں فوت ہو جاؤں یا اللہ تعالیٰ مجھے ایک مستقل مخلص جماعت عطا فرمائے۔22 دسمبر 1927ء کو میں مغرب کی نماز پڑھ کر اپنے گھر سے نکلا تا کہ کوئی کھانے کی چیز خریدوں۔چونکہ دن جمعرات کا تھا اور اس دن رات کو سب احمدی میرے مکان پر جمع ہوتے ہیں بازار دور ہونے کی وجہ سے وہاں جانا نہ چاہا۔میرے مکان کی گلی سے باہر نکلتے ہی ایک دکان ہے وہاں سے چنے خرید کر اپنے گھر واپس چلا مکان سے چھ سات قدم کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا موڑ ہے جہاں مغرب ہوتے ہی اندھیرا چھا جاتا ہے۔جب وہاں پہنچا تو میں نے یہ محسوس کیا کہ مجھے کوئی پیچھے سے پکڑ نا چاہتا ہے۔جب میں نے اس سے بھاگنے کی کوشش کی تو اس نے زور سے خنجر میری کمر میں مارا۔اس ضرب کو میں نے محسوس کیا۔میرے ہمسایہ کا