حیات شمس — Page 161
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس شخصا۔161 ں اسے زندہ مانے تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہے اگر مردہ تسلیم کیا جائے تو کوئی نفع نہیں ہے۔میں نے کہا مسئلہ حیات و وفات مسیح اس وقت ایک نہایت اہم مسئلہ ہے ، مسیح ناصری قرآن مجید کی رو سے وفات یافتہ ہے یا زندہ۔اگر اسکی حیات از روئے قرآن مجید میں ثابت ہے تو جو شخص اس کے خلاف وفات کا عقیدہ رکھتا ہے وہ قرآن کریم کے خلاف کرتا ہے اور اگر قرآن کریم سے اس کی وفات ثابت ہے تو جو شخص اس کی حیات کا قائل ہے وہ قرآن مجید کو جھٹلاتا ہے۔پس اس صورت میں حیات و وفات مسیح کا مسئلہ ایمانیات میں شامل ہو جاتا ہے۔دوسرے اس کی وفات سے ایک اہم فائدہ ہے وہ یہ کہ اس کے مرنے سے میسحیت بھی مر جاتی ہے جیسا کہ اس کے خلاف اسے زندہ ماننے سے وہ زندہ ہو جاتی ہے۔الحمد للہ کہ باوجود حالات حاضرہ کی خرابی کے ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور احباب کی دعاؤں کی برکت سے کچھ نہ کچھ تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔گفتگو میں بھی ہوتی ہیں۔بعض دوست کتا بیں بھی پڑھ رہے ہیں۔میں مکرمی زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کا نہایت ممنون ہوں جنہوں نے بڑی جدو جہد سے دو کتابیں چھپوائیں جن کی وجہ سے میں اس قابل ہوا کہ لوگوں کو مطالعہ کیلئے دوں۔یہ امر پوشیدہ نہیں کہ تمام تفاصیل انسان زبانی بیان نہیں کر سکتا ہے خصوصاً اس وقت جبکہ پبلک تقریروں کے بجائے تحریر پڑھنے کی زیادہ مشتاق اور عادی ہو۔اس ماہ میں پانچ مرد اور تین عورتیں سلسلہ میں داخل ہوئیں۔پانچ مردوں میں سے ایک طبیب الاسنان (Dentist ) ہیں اور ایک اخبار ترکیه و عربیہ کا حیفا میں نمائندہ ہے اور ایک دوست محکمہ دیوان العامہ بیروت میں ملازم ہیں۔ہمارے ایک مخلص دوست احسان سامی حقی عراق گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو۔میں بھی ان کے ہمراہ بیروت گیا۔وہاں ایک بہت بڑا کالج ہے جو امریکن مشن کی طرف سے ہے۔کلیہ امریکانی کے نام سے مشہور ہے۔اس کالج کی اصلی غرض تبشیر مسیحی ہے۔اس تمام علاقہ میں فقط یہی ایک بڑا کالج ہے۔اس کے متعلق ایک شفا خانہ بھی ہے۔ہم نے مینیجر شفا خانہ سے دریافت کیا کہ آپ صرف شفاخانہ پر سالانہ خرچ کیا کرتے ہیں اور یہ خرچ کہاں سے آتا ہے۔تو اس نے کہا ساٹھ ہزار ڈالر سالانہ خرچ ہے۔تمیں ہزار مشن کی طرف سے خرچ کیا جاتا ہے اور تمیں ہزار یہاں کی آمد سے پورا کیا جاتا ہے۔