حیات شمس

by Other Authors

Page 156 of 748

حیات شمس — Page 156

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 156 ہماری جماعت کے مبلغین اور طالب علموں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں سے تعلقات پیدا کریں۔ان سے ہمددری اور محبت پیدا کر کے انہیں اپنی طرف مائل کریں۔اس کے بغیر کوئی مقامی مبلغ کامیاب نہیں ہو سکتا۔سیاسی کام تو وہ کوئی کرتا نہیں اس لئے لوگ اس سے ایسے کام کی توقع رکھتے ہیں جو باتوں تک محدود نہ ہو بلکہ عملی زندگی پر اس کا اثر ہو۔اس لئے ہمارے طالب علموں اور مبلغوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے اندر انکساری، بجز محبت ،غربا کی مدد کرنے کی قابلیت پیدا کریں دوسرے لوگوں کو محتاج لوگوں کی امداد کی تحریک کر سکیں۔یہ ایسے کام ہیں جن کے ذریعہ سلسلہ کوحقیقی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور یہ باتیں بچپن میں ہی پیدا کی جاسکتی ہیں۔عیسائی پادری کی اٹھان ہی ایسی ہوئی ہے کہ وہ کسی کی خدمت کرتے ہوئے شرم محسوس نہ کرے۔اس وقت میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا کہہ چکا ہوں اور دعا پر اس تقریر کو ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ شاہ صاحب کے اخلاص کو قبول فرمائے اور مولوی جلال الدین صاحب کی حفاظت کرے۔ان کے اخلاص میں برکت دے اور وہ طلباء جنہوں نے اس وقت اظہار اخلاص کیا ہے ان کو بھی اس برکت سے حصہ دے۔“ (الفضل قادیان 18 جون 1926ء) دمشق سے متعلق حضرت مسیح موعود کے الہامات حضرت مولانا شمس صاحب تحریر کرتے ہیں : ابھی تک حالات دمشق بدستور ہیں۔جنگ جاری ہے صلح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔وزارت اولیٰ کے تمام ممبر نظر بند کر کے کہیں بھیج دیئے گئے ہیں اور نئے ممبر بھرتی کئے گئے ہیں اور بھی بڑے بڑے لوگوں کو نظر بند کیا جا رہا ہے۔جابجا شہر میں مورچے لگے ہوئے ہیں روزانہ تو ہیں دندناتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا: میں مکانوں کو گرتے اور بستیوں کو ویران پاتا ہوں“ سو یہ نظارے ہم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کئے۔دمشق میں محلوں کے محلے گرا کر خاک کا ڈھیر کر دئیے گئے اور دمشق کے اردگرد کی بستیاں ویران کی گئیں۔اس طرح پر بلائے دمشق کا الہام آفتاب نصف النہار کی طرح پورا ہوا۔بلاء کا لفظ بتلا رہا تھا کہ وہ مصیبت ایک دن یا دودن کے لئے نہیں ہوگی بلکہ بدیر رہے گی۔سوالیسا ہی ہوا۔صرف یہی الہام نہیں بلکہ اس واقعہ سے اور بھی