حیات شمس — Page 132
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 132 امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دمشق تشریف لے گئے۔آپ نے وہاں تین چار دن قیام فرمایا۔اس اثناء میں علمائے دمشق سے تبادلہ خیال ہوا۔النداء رسالہ جو اہل شام کو پیغام حق پہنچانے کی غرض سے اس وقت چھپایا گیا تھا حکومت دمشق نے مطبع میں ہی اسے ضبط کر کے تلف کر دیا۔علماء دمشق کے استہزاء اور حکومت کی سینہ زوری کا جواب حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سفر یورپ سے واپس آنے پر یہ دیا کہ 27 جون 1925ء کو مجھے مع مولوی جلال الدین صاحب شمس فاضل دمشق بھیجا تا وہاں ایک مستقل دار التبلیغ قائم کیا جائے۔ہم بیت المقدس، نابلس جنین ،طول کرم اور قنطرہ میں اپنا تبلیغی تعارف کراتے ہوئے 17 جولائی کو دمشق پہنچے۔ہمارے قیام پر ابھی تین ماہ نہیں گزرے تھے کہ علمائے دمشق کا استہزاء سنجیدگی میں تبدیل ہونے لگا اور انہوں نے چاہا کہ اسلام کے متعلق وہ اعلیٰ تشریحات اور پاکیزہ خیالات خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیفات میں دیکھیں۔کشتی نوح کا ترجمہ کیا گیا اور اس کے ساتھ ایک دیباچہ لگایا گیا جس میں نبوت پر روشنی ڈالی گئی۔یہ کتاب دمشق کے مطبع میں چھپی اور وہیں شائع ہوئی۔نیز اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی ترجمہ بھی ان کے درمیان شائع کیا گیا۔اسی اثناء میں وفات مسیح پر ایک مبسوط کتاب شائع کی گئی اور حقائق احمدیہ کے متعلق ایک رسالہ بھی۔علاوہ ازیں مقامی اخبارات کے ذریعہ بھی پیغام حق پہنچایا گیا۔حکومت کی سینہ زوری احمدیت کو پھر روک نہ سکی۔17 جولائی 1925ء سے 23 دسمبر 1928 ء تک احمدیہ دار التبلیغ دمشق کامیابی کے ساتھ کام کرتا رہا۔اس اڑھائی سال کے عرصہ کی جدو جہد کے نتیجہ میں اہل شام میں سے ہی ایک جماعت قائم ہوگئی۔ان احمد یوں میں سے منیر اکھنی اور ان کا خاندان خاص طور پر قابل ذکر ہے۔“ (حضرت سید ولی اللہ شاہ، ربوہ: مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان 2004ء صفحہ 26-30) مولا ناشس پر قاتلانہ حملہ اور شام سے اخراج کا حکم ( حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب) دسمبر 1927ء سے 13 مارچ 1928 ء تک دمشق میں احمدیت پر ایک نہایت شدید ابتلاء کا زمانہ آیا۔میں اس وقت ہندوستان واپس آچکا تھا۔ہماری غیر معمولی ترقی دیکھ کر جاہل و متعصب طبقہ میں