حیات شمس — Page 101
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس رضی اللہ عنہ مناظر تھے۔میں ان دنوں چھوٹی عمر کا تھا اور اپنے چچا جان مرزا سید احمد و مرزا محمد شریف بیگ صاحبان کے ہمراہ میں بھی مناظرہ سننے کے لئے موضع لنگر وال سے سار چور آیا کرتا تھا۔چونکہ میں احمدی نہ تھا اس لئے میں غیر احمدیوں کے سٹیج کے قریب بیٹھتا تھا۔اس کی کچھ یہ بھی وجہ تھی که مولوی عبد اللہ صاحب کے والد مولوی محمد فاضل صاحب اسلامیہ ہائی سکول فتح گڑھ میں ہمارے استاد تھے۔مجھے بوجہ بچپن عربی کا کوئی زیادہ علم اس وقت نہیں تھا اس لئے دوران مناظرہ قرآن کریم کی آیات ، احادیث یا دوسرے عربی حوالہ جات جو دونوں طرف سے پیش کئے جاتے تھے مجھے ان کی سمجھ تو زیادہ نہیں آتی تھی البتہ اتنا ضرور محسوس ہو جاتا کہ مولوی محمد عبد اللہ صاحب عاجز آ رہے ہیں کیونکہ جب حضرت شمس صاحب مرحوم کوئی دلیل پیش کرتے تو غیر احمدیوں کے صدر مولوی عبدالحی صاحب کے مونہہ سے بے ساختہ نکل جاتا اوہو! کام خراب ہو گیا اور مولوی محمد عبد اللہ اور مولوی عبد الحی صاحبان دونوں بعض کتب کی (جو غالباً مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی تصانیف تھیں ) ورق گردانی شروع کر دیتے اور کہتے جاتے کہ جلدی کرو کچھ نکالو۔جواب الجواب میں مولوی محمد عبد اللہ صاحب بعض سخت اور ناشائستہ الفاظ بول جاتے لیکن جماعت احمدیہ کے مناظر حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ہمیشہ تحمل اور خندہ پیشانی سے جوابات دیتے۔مجھ پر یہ اثر تھا کہ جماعت احمدیہ کا مناظر انتہائی بلند اخلاق کا حامل ہے۔میں حلفا لکھتا ہوں کہ میری طبیعت پر مولانا شمس صاحب کے طرز مناظرہ اور نرمی و خندہ پیشانی سے جوابات دینے کا گہرا اثر تھا۔مجھے یاد ہے کہ مناظرے کے دوسرے یا تیسرے دن دو پہر کے بعد کی نشست میں پارووال کے ایک غیر احمدی معزز چوہدری سردار محمد نے دلائل کے وزنی ہونے اور بلند اخلاق کے مظاہرہ کرنے پر مولانا شمس صاحب کو انعام دیا تھا۔جب یہ انعام دیا جار ہا تھا تو دوسری طرف بھی اشارے شروع ہوئے کہ مولوی محمد عبد اللہ صاحب کو بھی کچھ انعام دیا جائے لیکن کسی بھی غیر احمدی نے انہیں انعام دینا پسند نہ کیا البتہ ایک عیسائی نے اُٹھ کر انہیں پانچ روپے کا انعام دیا جس کا بڑے فخر سے اعلان کیا گیا۔جس پر چوہدری سردار محمد آف پارووال ( جو اس وقت 101