حیات شمس — Page 92
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 92 2 حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت مولانا شمس صاحب مرحوم کے اساتذہ میں حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ حضرت شمس صاحب نے آپ کے ساتھ مختلف میدانوں اور شعبوں میں ایک لمبا عرصہ گزارا ہے۔آپ اپنے زمانہ میں سلسلہ احمدیہ کے بڑے علماء میں سے تھے۔قرآن وحدیث کے علاوہ آپ نے ہر ایک اسلامی علم میں تبجر حاصل کیا تھا۔عیسائیت، یہودیت اور دیگر مذاہب سے متعلق آپ کو نہایت اعلی درجہ کی واقفیت حاصل تھی۔آپ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے۔روایات میں آتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اپنے تمام روحانی علوم میاں محمود کو دے دیئے ہیں اور تمام ظاہری علوم حافظ روشن علی صاحب کو دے دیئے ہیں۔(سیرت حافظ روشن علی مرتبہ مکرم سلطان احمد پیر کوئی صفحہ 21) جلسہ سالانہ قادیان کی اسٹیج پر آپ کو 1914ء سے لے کر 1927 ء تک برابر چودہ سال تقاریر کرنے کا موقع ملا۔نو سال آپ نے صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع پر تقاریر کیں لیکن ہر بار آپ نے نئے انداز اور نئے معیاروں سے اس مضمون کو بیان کیا۔حضرت حافظ صاحب بہترین مناظر بھی تھے اور مناظرہ میں نہایت سنجیدہ اور غیر دل آزار تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مباحثوں کی وجہ سے حافظ صاحب جماعت میں اتنے مقبول ہوئے کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت ہمیشہ جماعتیں یہ کہا کرتی تھیں کہ اگر حافظ روشن علی صاحب اور میر محمد الحق صاحب نہ آئے تو ہمارا کام نہیں چلے گا۔الفضل قادیان 19 نومبر 1940ء صفحه 4) رمضان کے مہینہ میں آپ ظہر سے عصر تک با قاعدہ قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے اور آپ کا یہ طریق 1916ء تا 1927ء تک جاری رہا۔درس دینے کا آپ کا یہ طریق تھا کہ پہلے آپ ایک پارہ زبانی پڑھ لیتے پھر اس کا ترجمہ اسی روانی کے ساتھ بیان فرماتے پھر ضروری مطالب بیان فرماتے۔حضرت حافظ صاحب نہ صرف خود کامیاب مبلغ تھے بلکہ مبلغ گر بھی تھے۔تبلیغ کے میدان جہاد کے نہ صرف خود ایک کامیاب اور تجربہ کار جرنیل تھے بلکہ آپ جرنیل گر بھی تھے۔جماعت احمدیہ کی طرف