حیات شمس — Page 91
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 91 کے متعلق اس وقت تک کافی لکھا جا چکا ہو گا۔صرف ایک بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اس سال 28 جنوری [1944ء] کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے با علام الہی یہ اعلان فرمایا کہ مصلح موعود جس کی بشارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئی تھی وہ آپ ہی ہیں۔یہ بات تمام افراد جماعت کے لیے خوشی کا موجب ہوئی۔میں سمجھتا ہوں کہ سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ اور حضرت سید محمد اسحاق صاحب کی وفات سے پہلے جو جماعت کیلئے موجب رنج وغم ہونے والی تھیں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پر یہ انکشاف فرما کر کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں اللہ تعالیٰ نے جماعت سے ایک رنگ میں ہمدردی کا اظہار کیا تا وہ آنے والی مصیبت پر صبر کر کے خدا تعالیٰ کی رحمت کی وارث ہو۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء سے یہی مقدر تھا کہ مصلح موعود کی پیدائش سے پہلے بھی دو عزیز وجود وفات پائیں اور مصلح موعود کے دعوئی کرنے کے بعد بھی دو معزز وجود ہم سے جدا ہوں۔چنانچہ آپ کی پیدائش سے پہلے سیدہ عصمت صاحبہ اور صاحبزادہ بشیر اول کی وفات ہوئی اور اب مصلح موعود کا دعوی کرنے کے بعد ام طاہر سیدہ مریم بیگم صاحبہ اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات ہوئی۔ایک عورتوں میں سے اور ایک مردوں میں سے جیسا کہ پیدائش سے پہلے بھی ایک لڑکی کی وفات ہوئی اور بعد میں لڑکے کی جس میں اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ مصلح موعود کے زمانہ میں اطفال اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور عورتوں اور مردوں سب کو غیر معمولی طور پر قربانیاں کرنا ہوں گی جن کے نتیجہ میں وہ خدا کے فضلوں اور رحمتوں کے وارث ہوں گے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت بشیر اول کی وفات پر فرمایا کہ اس کی وفات سے پہلی قسم انزال رحمت کی پوری ہوئی جو مصائب پر صبر کرنے والوں پر ہوتی ہے اور ان پر جو صبر کرتے ہیں کامیابی کی راہیں کھولی جاتی ہیں۔اسی طرح ہمیں بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ان دونوں حادثوں کو بھی جماعت کی عورتوں اور مردوں کے لیے رحمتوں اور برکات کے نزول کا موجب بنائے۔آمین۔“ 66 خاکسار جلال الدین شمس - از لندن۔(الفضل قادیان 2 جولائی 1944ء)