حیات شمس

by Other Authors

Page 88 of 748

حیات شمس — Page 88

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 88 اس الہام کے سلسلہ میں حضرت مرحوم و مغفور کے اس خط کا ایک حصہ بھی لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں جو آپ نے 29 جولائی 1963ء کو گھوڑا گلی سے مجھے لکھا اور کراچی میں مجھے ملا۔اس میں آپ نے تحریر فرمایا: وو کل رات مجھ پر خواب میں ایک عجیب کیفیت طاری رہی۔قریباً ساری رات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر وقفہ وقفہ کے بعد میری زبان پر جاری رہا ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کئے گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار جاگنے پر خیال آیا کہ شاید اس شعر کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام سے تعلق ہو کہ برق طفلی بشیر “ کیونکہ دونوں میں طفل کا لفظ آیا ہے۔آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ انجام بخیر کرے۔میں نے جوابا لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر زبان پر جاری ہونے سے الہام "برق طفلی بشیر“ میں لفظ طفلی سے میں سمجھتا ہوں کہ ایک معنی کے لحاظ سے طفلی میں یاء کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف ہے۔یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بیٹے بشیر کی آنکھیں روشن ہو گئیں اور مولانا روم اپنی مثنوی میں اولیاء کے متعلق فرماتے ہیں: اولیاء اطفال حق انداے پسر پس! مذکورہ بالا شعر کے مرحوم کی زبان پر جاری ہونے اور الہام ” برق طفلی بشیر سے آپ کا اطفال حق میں سے ہونا ظاہر ہوتا ہے اور اس القاء کے ایک ماہ اور چار دن کے بعد آپ ہمیشہ کیلئے اپنے مولائے حقیقی کی گود میں چلے گئے۔اس زمانہ کا جہاد جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں تبلیغ دین حق اور اشاعت قرآن اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔پس جو شخص اپنی تمام زندگی اس غرض کے لئے وقف کر دیتا ہے اور قلمی جہاد کے میدان میں آخر دم تک جہاد کرتا چلا جاتا ہے یقینا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جیسے مرد مجاہد ہے ویسے ہی وہ شہید ہے اور آپ تو کشف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لحاظ سے بھی میرے نزدیک شہداء میں داخل ہیں اور شہید جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں وہ شخص ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوت پاتا ہے۔نیز فرماتے ہیں کہ شہید شہد سے بھی