حیات شمس — Page 87
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 87 یہ مباحثہ مسلمانوں کے نمائندہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور عیسائیوں کے نمائندہ پادری عبد اللہ آتھم کے مابین پندرہ دن تک ہوا اور اسلام کو عیسائیت پر ایک نمایاں فتح حاصل ہوئی اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ " مسیح موعود کے ذریعہ کسر صلیب ہوگی ویسا ہی ظہور پذیر ہوا اور وہ پیشگوئی بڑی آب و تاب سے پو ری ہوئی۔اس عظیم الشان مباحثہ میں نامور پادریوں کو شکست فاش ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس رنگ میں اسلام کو زندہ مذہب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ نبی اور قرآن مجید کو زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا وہ ایسے امور نہ تھے کہ جن سے عیسائی دنیا متاثر نہ ہوتی کیونکہ اس مباحثہ نے تمام عیسائی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔فَالحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔پھر اسی سال پنڈت لیکھرام کی ہلاکت سے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو بشارت دی کہ وہ چھ سال کے عرصہ میں ہلاک ہو جائے گا اور الحمد للہ کہ ایسا ہی ہوا نیز اسی سال آپ نے فصیح عربی زبان میں کرامات الصادقین، لکھی اور علماء کو بالمقابل ایسا رسالہ لکھنے کی دعوت دی لیکن کسی عالم کو بالمقابل قلم اٹھانے کی جرات نہ ہوئی۔اس کے بعد مرحوم و مغفور کی پیدائش پر ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ ” کسوف وخسوف کا نشان ظاہر ہو گیا اور احادیث کے عین مطابق 20 مارچ 1894 ء موافق 13 رمضان المبارک کو چاند گرہن ہوا اور 6 اپریل 1894ء بمطابق 28 رمضان المبارک کو سورج گرہن ہو ا۔احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک ہی سال اور ایک ہی ماہ یعنی رمضان المبارک میں چاند اور سورج کا گرہن لگنا بچے مہدی علیہ السلام اور بچے مسیح علیہ السلام کی سچائی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔الغرض مرحوم و مغفور کی ولادت کے بعد جیسا کہ پیشگوئی میں ذکر تھا اللہ تعالیٰ نے اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ظاہر کرنے کیلئے زمین و آسمان سے پے در پے نشانات ظاہر کئے کہ جن سے آپ کا کام سہل ہو گیا۔مرحوم و مغفور کے وجود میں اللہ تعالیٰ کی موجودگی اور صداقت کا ایک اور نشان بھی پورا ہو ا جس کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: بشیر احمد میر الڑ کا آنکھوں کی بیماری سے ایسا بیمار ہو گیا تھا کہ کوئی دوا فائدہ نہ کر سکتی تھی اور بینائی جاتے رہنے کا اندیشہ تھا۔جب شدتِ مرض انتہا تک پہنچ گیا تب میں نے دعا کی تو الہام ہوا ”برق طفلی بشیر یعنی میرا لڑکا بشیر دیکھنے لگا تب اسی دن یا دوسرے دن وہ شفایاب (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحه 240) ہو گیا۔