حیات شمس — Page 64
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 64 اہلیہ حضرت مولانا شمس صاحب بیان کرتی ہیں کہ بچپن میں حضرت مولا نائٹس صاحب کو اوپر کی طرف دیکھنے کی عادت تھی جو شاید آپ کے آسمان احمدیت پر آفتاب نصف النہار کی طرح چپکنے کی علامت تھی۔چنانچہ جب آپ کو ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لے جایا گیا تو حضور نے فرمایا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر دین کی بہت خدمت کرے گا۔“ روایت مکر مہ اہلیہ حضرت مولانا شمس صاحب بحوالہ خالد احمدیت جلد اول از عبدالباری قیوم صفحہ 18) آپ کو بچپن سے ہی محنت اور جفاکشی کی عادت تھی۔آپ کے اس وصف نے آپ کو زمانہ طالب علمی میں بہت ہی فائدہ پہنچایا۔چنانچہ آپ دن رات اپنے تعلیمی اوقات کے علاوہ بھی خوب محنت کرتے۔آپ کے ہاتھ ہر وقت کوئی نہ کوئی کتاب یا کاپی رہتی اور آپ چلتے پھرتے جب بھی موقعہ ملتا کتب کا مطالعہ کرتے رہتے اور ساتھ ساتھ نوٹس بھی لیتے رہتے۔ابتدائی تعلیم رواج کے مطابق آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سکھواں میں ہی حاصل کی اور پھر جب مدرسہ میں داخل ہوئے تو سیکھواں سے علی اصبح مدرسہ احمدیہ کیلئے قادیان آنے کی کیفیت بڑی دلچسپ ہوتی جس کا ذکر گذشتہ صفحات میں گذر چکا ہے۔1910ء میں آپ مدرسہ احمدیہ قادیان کی پہلی کلاس میں داخل ہوئے جس کی کل آٹھ کلاسیں تھیں۔اس وقت مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ انچارج حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ تھے۔مولانا شمس صاحب ابتدائے زمانہ تعلیم میں ہر روز اپنے گاؤں سیکھواں سے پیدل چل کر قادیان آتے۔مدرسم بند ہونے پر مسجد اقصیٰ قادیان میں سٹڈی کرتے اور مغرب سے قبل گھر پہنچ جاتے۔کبھی حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کا درس سننے کے بعد قادیان سے روانہ ہوتے اور کبھی (اگر دیر ہو جاتی تو قادیان میں ) اپنے عزیزوں کے گھروں میں رات رہ جاتے۔قریباً دو سال یہ سلسلہ رہا۔پھر الحکم سٹریٹ میں مولوی رحمت علی صاحب مبلغ سماٹرا مرحوم کے مکان کے ساتھ کا کچا کوٹھا دو کمروں والا اول کرایہ پر لیکر پھر اسے خرید کر رہتے رہے۔آپ کی پھوپھی صاحبہ حضرت مائی کا کو صاحبہ خادمہ خاص حضرت ام المومنین علیھا السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ اور کبھی آپ کی ہمشیرہ صاحبہ آپ کے کھانے کا انتظام کرتیں اور اس مکان میں رہتیں۔“ (الفضل 17 نومبر 1966 ءصفحہ 5)