حیات شمس — Page 59
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 59 59 میں جب بیمار تھا اور اپنی فصل ربیع کٹوانے کے لئے گاؤں میں گیا ہو ا تھا۔مجھے کچھ بخار و کھانسی تھی۔عشاء کے بعد جب میں چار پائی پر لیٹ گیا تو مجھے خیال آیا ابھی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔اگر میری اجل قریب ہے تو تو ( بخدا ) زیادہ کر سکتا ہے کیونکہ مولوی جلال الدین یہاں نہیں۔عمر زیادہ کرنے سے تیری ذات کو کوئی روکنے والا نہیں۔جب صبح قریباً تین بجے تھے مجھے آواز آئی۔السلام علیکم۔بڑی بلند آواز سے۔میں اُٹھ کر بیٹھ گیا۔میں نے چار پائی کے چاروں طرف دیکھا تو کوئی شخص معلوم نہ ہوا۔میں نے سمجھا کہ فرشتہ کی طرف سے سلامتی کا لفظ ہے۔ابھی اچھی عمر کا کچھ حصہ رکھا ہے یہ اس کا فضل ہے۔اس کے بعد آپ تقریباً چار سال تک زندہ رہے۔اے میرے خدا! میں اپنے پیارے محسن باپ کی جدائی پر جو تیرے ارادہ اور قضاء سے واقع ہوئی راضی ہوں جیسا کہ میں نے اپنے اکلوتے بھائی کی وفات پر تیری قضا پر رضا کا اظہار کیا تھا۔اے میرے پیارے مولا! تو جانتا ہے کہ جب سے مجھے یہ افسوسناک خبر ملی ہے کتنی مرتبہ میرا گنہگار اور شرمسار دل تیرے حضور گداز ہو کر تجھ سے مغفرت کا خواہاں ہوا۔اے غفور و رحیم خدا! میں اپنے دل میں ان کوتاہیوں پر جو مجھ سے میرے محسن باپ کی خدمت کے سلسلہ میں ہوئی ہوں سخت نادم اور پشیمان ہوں۔پس تو میرے گنا ہوں اور قصوروں کو معاف فرما اور مجھے توفیق بخش کہ میں اپنے پیارے باپ کی وفات کے بعد تیرے حضور دعاؤں کے ذریعہ ان کی خدمت کر سکوں۔ہاں تو میری غم خوار والدہ ماجدہ پر بھی نظر رحمت فرما اور میری پھوپھی صاحبہ پر بھی کہ انہیں والد صاحب سے دوسرے بھائیوں کی نسبت زیادہ محبت تھی اور ان کی عمر میں برکت بخش۔نیز سارے خاندان کی طرف سے تیرے حضور ملتجی ہوں کہ تو ہمیں اپنی حفاظت میں رکھیو اور خلیفہ وقت کے دامن سے وابستہ اور ہر قسم کی ناپاکی اور گناہ سے بچائیو اور ابرار ہونے کی حالت میں اپنے پاس بلائیو۔آمین۔“ خاکسار جلال الدین شمس از لندن (روز نامہ الفضل قادیان8 جولائی 1941ء)