حیات شمس

by Other Authors

Page 55 of 748

حیات شمس — Page 55

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 55 صرف سیکھواں ہی نہیں بلکہ ضلع گورداسپور کے دیہات کی بہت سی جماعتیں اُن سے مستفید ہوئیں۔تینوں بھائیوں نے بہت سے مقامات پر تبلیغ کی اور مباحثات بھی کئے۔تبلیغ اور سلسلہ کے دیگر کام والد صاحب مرحوم کو میں نے کئی دفعہ غیر احمدیوں کو تبلیغ کرتے سنا ہے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت کرنے کے لئے اکثر آپ کے الہامات اور ربانی تائیدات اور پیشگوئیاں جن کے وقوع کے وہ خود چشمدید گواہ تھے پیش کیا کرتے تھے۔مولوی کرم الدین والے مقدمہ کے حالات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سفر جہلم نیز ہنری مارٹن کلارک والے مقدمہ اور دیگر مقدمات جو گورداسپور میں ہوئے اور ان کے متعلق جو پیشگوئیاں پوری ہوئیں ان کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے کیونکہ اُن سب مقدمات کے وہ چشم دید گواہ تھے۔یہ سب واقعات میں نے ان سے کئی مرتبہ سنے تھے۔گورداسپور کے مقدمات کے سلسلہ میں آپ کو مرکز سے اگر گورداسپور جلسہ کا انتظام کرنے کی کوئی اطلاع ملتی تو آپ خواہ بارش ہوتی یارات کا وقت ہوتا ہر حال میں وہاں پہنچتے تھے۔میرے ننھیال ( بھا گووالہ ) میں جب جاتے وہاں تبلیغ کیا کرتے۔پنڈت لیکھرام کے قتل کے بعد جب آپ وہاں گئے تو وہاں کے آریہ سرداروں نے آپ کو مارنے کے لئے ایک منصوبہ کیا۔وہ واقعہ لمبا ہے یہاں اس کا آخری حصہ درج کرتا ہوں۔سرداروں نے اپنے مکان پر بلوا کر جہاں گاؤں کے اور سرکردہ بھی جمع تھے ان پر اس قسم کے الزامات لگانے شروع کئے کہ آپ یہاں فساد کروانا چاہتے ہیں مگر ثابت کوئی بات نہ کر سکے نیز ان سے یہ تحریر بھی مانگی کہ وہ پھر کبھی بھا گوالہ نہیں آئیں گے آپ نے انکار کر دیا۔سردار نے کہا لکھنا پڑے گا۔والد صاحب نے جواب دیا میں کبھی نہ لکھوں گا۔سردار نے ایک شخص سے کہا قلم دوات لاؤ۔اتنے میں میرے نانا جان میاں کریم بخش مرحوم کو پتہ لگ گیا اور وہ وہاں پہنچ گئے اور والد صاحب سے کہا تمہیں یہاں کس نے بلایا ہے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر مجلس سے باہر نکال لائے۔والد صاحب کا خیال تھا کہ جو لوگ وہاں جمع تھے وہ نہیں جانے دیں گے مگر نانا مرحوم کی جرات کا ان پر کچھ ایسا رعب پڑا کہ سب خاموش رہ گئے۔دوسرے روز جب اپنے گاؤں سیکھواں واپس آنے لگے تو گھٹیا نام نمبر دار سے جو آپ کا واقف تھا اور