حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 81
چاہیں اپنی ہیولوں سے سلوک کریں۔اُن کی باتوں میں ملنی پائی جاتی ہے غصہ پایا جاتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بگڑ جانا اور غصے کا اظہار کرنا ان کا معمول ہوتا ہے۔اس کے نتیجہ میں اتنی خرابیاں رونما ہوتی ہیں کہ اگر آپ ان کا تخت کریں۔ان کے پیچھے چلیں تو بہت بڑا مضمون ہے ہو آپ کے سامنے ابھرے گا۔میں نے بارہا ان باتوں پر غور کیا ہے اور میںسمجھتا ہوں کہ گھر کی روز مرہ کی بد خلقی ہمارے معاشرہ کی اکثر خرابیوں کی ذمہ دار بن جاتی ہے۔جن خاندوں کا ہیولوں کے ساتھ حسن و احسان کا تعلق نہ ہو۔ان کے نازک جذبات کا احساس نہ ہو۔اگر کبھی زیادتی بھی ہو جائے تو حوصلہ سے کام نہ لے سکیں وہ بھی اپنی اولاد کے لئے ماؤں کے قدموں تلے سے جنت چھین لیتے ہیں اور ایسے مرد بھی ماؤں کے قدموں تلے سے جنت چھین لیتے ہیں جو ماؤں کی بے راہ روی کو بغیر اظہار افسوس کے قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔پس ماں اور باپ کے تعلق کے توازن ہیں جو آئندہ نسلوں کے بنانے یا بگاڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔جن گھروں میں مائیں مظلوم ہوں جب باپ اُن گھروں سے چلے جاتے ہیں تو مائیں اپنے بچوں کے کانوں میں ان بالوں کے خلاف باتیں بھرتی چلی جاتی ہیں اور یہ ایک ایسا طبعی قانون ہے جو تمام دنیا میں رائج ہے۔ایسی نسل پیدا ہوتی ہے جو باپ کی باغی ہوتی ہے اور باغی نسلیں پھر ہر نظم وضبط کی ہر نظام کی باغی ہو جایا کرتی ہیں۔مائیں سمجھتی ہیں کہ ہم نے اپنی اولاد کی زیادہ ہمدردی حاصل کر کے باپ سے اپنا بدلہ اتارا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنا بدلہ نہیں اتار رہیں بلکہ اولا دکور بر یاد کر رہی ہیں اور آئندہ کے لئے اُسے کسی کام کا نہیں چھوڑتیں۔وہ اولاد جو اپنے باپ کے خلاف چاہے جائز شکایات ہی ہوں بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے لگ جاتی ہے اُسے مذہب کی بھی کوئی قدر نہیں رہتی ، معاشرے کی بھی کوئی قدر نہیں رہتی۔اس کا احترام بالعوم اُٹھ جاتا ہے۔اور ایک باغی طرز کے مزاج کے لوگ پیدا ہونے شروع ہوتے ہیں۔اب ان باتوں کو مزید بڑھا کر دیکھیں تو یہی مرد ہیں جو آئندہ کسی کے خاوند بننے والے ہیں۔آئندہ عورتوں سے تعلق قائم کرنے والے ہیں تو اس ماں نے در حقیقت اپنا بدلہ خاوند سے نہیں اتارا بلکہ آنے والی معصوم