حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 80

بچے اس یقین کے ساتھ بڑے ہو رہے ہوتے ہیں کہ یہ دنیا خود غرضی کی دنیا ہے۔اس میں شخص کا جو بس چاہے وہی کرے جس پر زور چلے وہ اپنا نے اور اپنی لذتیں ہمارے اپنے ہاتھ میں نہیں۔ہمیں کسی اور پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں۔وہ جب اس حالت میں بڑے ہوتے ہیں تو اپنے ماں باپ اُن کو بوجھ دکھائی دیتے ہیں۔پرانے زمانے کی چیزیں دکھائی دیتے ہیں۔جیسے پرانا استعمال شدہ فرنیچر لبعض دفعہ نظر کو تکلیف دیتا ہے ویسے ہی ماں باپ ایک پرانے فرنیچر کے طور پر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ایسا معاشرہ جنت سے دور بہٹ رہا ہوتا ہے۔ایسا معاشرہ بہترین زمین ہے جس پر بد ترین چیزیں جڑ پکڑیں اور دن بدن ایسے معاشرے ہلاکت اور تباہی کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔آپ نے عملاً پاک معاشرہ پیدا کرنا ہے اور اس پاک معاشرنے کے لئے کسی لمبی چوڑی علمی تحقیق کی ضرورت نہیں۔یہ چھوٹی چھوٹی عام سادہ ی باتیں ہیں حضرت رسول اکرم صلی الہ علیہ ولی کا رستم کا اور نہ ہی آپ کی تعلیم کے لئے کافی ہے۔ہر اس موقعہ پر جب آپ کا اپنی اولاد سے رابطہ پیدا ہوتا ہے اگر آپ یہ سمجھیں کہ آپ اس پر آج ہی نہیں بلکہ کل کے لئے بھی اثر انداز ہو رہی ہیں تو یقیناً آپ کی طرز عمل میں ایک ذمہ داری کا احساس پیدا ہو گا۔ماؤں کے قدموں تلے سے جنت چھین لینے والے مرد دوسری بات ایسی ہے جس کا عورت سے بھی تعلق ہے اور مرد سے بھی تعلق ہے۔بعض دفعہ عورت ہیں جن کے پاؤں تلے جنت ہونی چاہیئے بدنصیب مردان کے پاؤں تلے سے جنت چھین لیتے ہیں اور ذمہ داری عورت پر نہیں ہوتی بلکہ ان بدنصیب مردوں پر ہوتی ہے جن کی اولاد ماؤں سے جنت حاصل کرنے کی بجائے جہنم حاصل کر لیتی ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو گھروں میں بد خلقی اور بدتمیزی سے پیش آتے ہیں ان کو اپنی بیویوں کے نازک جذبات کا احساس نہیں ہوتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ انہیں زیادہ جسمانی طاقت حاصل ہے اس لئے وہ جس طرح