حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 65
۶۵ نے اپنی ماؤں کو خود غرضی کی حالت میں زندگی بسر کرتے دیکھا ہو وہ لازماً خود غرض بن کر بڑے ہوتے ہیں ایسی مائیں جو اپنے بچوں کو چپ کرانے کی خاطر جھوٹ بول دیتی ہیں یا ساتھ نہ لے جانے کے لئے بہانہ بنا دیتی ہیں ایسی مائیں ہمیشہ جھوٹی نسلیں پیدا کرتی ہیں پس ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں آپ جنت بھی پاتی ہیں اور جہنم بھی پاتی ہیں آپ کو اختیار ہے کہ جہنم کو قبول کر لیں یا جنت کو آپ نے عملاً پاک معاشرہ پیدا کرتا ہے۔حضرت محمدؐ کا اسوہ حسنہ ہی آپ کی تعلیم کے لئے کافی ہے گھر کی روزمرہ بد خلقی ہمارے معاشرہ کی اکثر خرابیوں کی ذمہ دار بن جاتی ہے جن خاوندوں کا بیویوں کے ساتھ حسن و احسان کا تعلق نہ ہو، ان کے نازک جذبات کا احساس ہو وہ بھی اپنی اولاد کے لئے ماؤں کے قدموں تلے سے جنت چھین لیتے ہیں اور ایسے مرد کبھی جو ماؤں کی بے راہ روی کو بغیر اظہار افسوس کے قبول کئے جاتے ہیں ہیں ماں اور باپ کے تعلق کے توازن ہیں جو آئندہ نسلوں کے بنانے یا بگاڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔قرآن سکھانا ایک بہت ہی عظیم سعادت ہے یہ جنت بنانے کا دوسرا پہلو ہے بچپن ہی سے قرآن کریم کی محبت ان (اپنی اولاد) کے دلوں میں پیدا کریں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی محبت ان کے دلوں میں پیدا کریں، خدا تعالیٰ کا گہرا پیار ان کے دل میں جاگزیں کریں کیونکہ اسی کے پیار سے پھر باقی سب پیار کے سوتے پھوٹتے ہیں : یہ وہ اولاد ہے جو لازماً اپنی ماؤں کے پاؤں تلے سے جنت حاصل کرے گی احمدی خواتین کو بے کار کرنے کے لئے قرآن کریم میں کہیں کوئی تعلیم نہیں ہے۔ہر نیکی کے میدان میں مردوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا خدا کی طرف سے بطور قراضیہ آپ پر عائد کر دیا گیا ہے۔پس اے احمدی خواتین میں تم سے توقع رکھتا ہوں خدا کا رسول تم سے توقع رکھتا ہے کہ تم اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ مرد تمہیں کیا کہتے ہیں بلکہ تم مہر اس نیکی کے میدان میں جس میں مرد فاضل ہوا ہے میں آگے بڑھنے کی کوشش کرف