حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 64
حضور انور کے اس خطاب کے چند اہم نکات ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں جو عزت اور مقام اور مرتبہ قرآن کریم اور حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم نے عورت کو عطا فرمایا اس کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے یہ عورت کے لئے اتنا عظیم اظہار تحمین ہے کہ جس کے متعلق یہ فقرہ کہا جائے بلاشبہ اس کو آسمان کی بلند ترین رفعتیں ہو جاتی ہیں۔عورت کے اختیار میں ہے کہ قوم کا مستقبل بنائے جس جنت کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ صرف آخرت کی جنت نہیں بلکہ اس دنیا کی جنت بھی ہے۔کوئی قوم جسے اس دنیا کی جنت نصیب نہ ہو اسے آخرت کی جنت کی موہوم امیدوں میں نہیں رہنا چاہئیے اس پہلو سے مسلمان عورت کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو اس دنیا کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں اور اُس دنیا کے ساتھ بھی۔اگر ہمارا معاشرہ ہر گھر کو جنت نہیں بنا دیتا تو اس حدیث کی رو سے وہ عاشر اسلامی نہیں ہے۔پس جنت کی خوشخبری سے یہ مراد نہیں کہ لازنا ہر ماں کے پاؤس تلے جنت ہے مراد یہ ہے کہ خدا توقع رکھتا ہے کہ اسے مسلمان عور تو ! تمہارے پاؤں تھے سے جنت پھوٹا کرے اور جہاں تمہارے قدم پڑیں وہ برکت کے قدم پڑیں اور تمہاری اولادیں اور تم سے تربیت پانے والے ایک جنت نشاں معاشرے کی تعمیر کریں۔احمدی عورت واقعتاً اس بات کی اہلیت رکھتی ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وستم کی توقعات کو پورا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے کہ اس دنیا میں جنت کے نمونے پیدا کرے۔ہر وہ ماں جو بچے کو صرف پیار ہی نہیں دیتی بلکہ شروع ہی سے اس کے اندر انصاف پیدا کرتی ہے۔اس کے اندر توازن پیدا کرتی ہے وہ حقیقت میں مستقبل کے لئے ایک جنت پیدا کر رہی ہوتی ہے۔ایک نقصان عورت کا اپنی ذات میں مگن ہونے کا نقصان ہے۔جن بچوں