حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 47

جائیں تو ان کی تعمیر میں ان کی تخریب کے سامان ڈال دیئے جاتے ہیں اور ایسی شادیاں ایسی شاخ پر بنا کرتی ہیں جس شاخ نے قائم نہیں رہنا، اس نے الز بنا کاٹا جاتا ہے۔زیوروں پر نگاہ ہوتی ہے۔یہ توقع ہوتی ہے کہ کس حد تک کوئی بہو زیور مانگ کر یا پہن کر اپنا بنا کر گھر آئے گی۔مانگنے کا لفظ تو میں نے زائد کر دیا ہے۔جہاں تک ان کی توقع کا تعلق ہے وہ بجھتی ہیں کہ چاہے بیٹی والا اپنی ساری جائیداد بیچ دے اپنی بیٹی کو بہت سے زیور سے آراستہ کر کے ہمارے گھر بھیجے اور امر واقعہ یہ ہے کہ ان بیٹیوں کی مائیں جو بور ہو کسی گھر بھجوائی جاتی ہیں بعض دفعہ مانگ کر زیور دیتی ہیں اور گوشش کرتی ہیں کہ دوس کے دن خفیہ طور پر وہ زیور واپس منگوا لیا جائے تاکہ جس کی انت ہے اُس کے سپرد کر دیا جائے چنانچہ بعد میں جو جھگڑے ہوتے ہیں اُن میں یہ باتیں بھی سامنے آتی ہیں۔کیسی لغو بات ہے لیکن بڑی سنجیدگی کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ہم سے دھو کہ کیا گیا۔بہو کو جو جھومر پہنایا گیا وہ مانگا ہوا تھا۔جو کانٹا پہنایا گیاوہ مانگا ہوا تھا اور ا یہ کہ مانتی نہیں کہ مانگا ہوا تھا۔کہتی ہیں دیا تھا اور واپس لے گئیں۔ایسا ظالمانہ معاشرہ ہے کہ جس کے تیور میں محبت بڑھنے کی بجائے نفرتیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ مائیں جو یہ ظالمانہ طریق اختیار کرتی ہیں وہ اپنے بیٹے کی خوشیوں میں کانٹے بو دیتی ہیں اور معاشرے میں ہمیشہ کے لئے زہر گھول دیتی ہیں اور یہ باتیں پھر لگا نہیں کرتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔شکووں پڑسکو سے اور نہایت کمینی باتیں۔۲۔بہو کی کمائی پر نظر پھر بعض مائیں ہیں وہ شایدان باتوںکی پرواہ نہ کرتی ہوں لیکن بیٹی کی تعلیم پر بہت زور دیتی ہیں اور اس کے پس پردہ ایک بدنیت چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ ایسی بیٹی گھر آئے جس کی تعلیم اس کے لئے روزی کمانے کا ذریعہ بن سکے چنانچہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ مل کر روزی کمائے اور جو کچھ کھائے وہ ہمارے سپرد کر دے۔اب یہ نیت تو زیادہ دیر چھپی نہیں رہ سکتی۔جب شادی ہو جاتی ہے تو ان بچیوں کو جھور کیا جاتا ہے کہ اب تم نوکریاں تلاش کرو۔