حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 26
نقش ظا ہر ہوتا ہے تو وہاں ایک خام نقش ظاہر ہوتا ہے ایک عیب دار نقش ظاہر ہوتا ہے۔بعض حروف بٹے ہوئے ہوتے ہیں۔بعض نشان مٹے ہوئے ہوتے ہیں مشکل سے انسان پہچانتا ہے کہ یہ کون سی مہر تھی جس کا نقش ثبت ہوا ہے۔پس بعینہ اسی طرح انسان کی کیفیت ہے۔انسان جب خدا تعالیٰ کی ذات کو اپنے اندر ثبت کرتا ہے اور اس طرح ثبت کرتا ہے کہ وہ گہرے نقوش چھوڑ جائے اُس وقت وہ مہر میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔گویا اس پہلو سے خدا سے تعلق کے دو پہلو ہیں۔ایک قدم ہے خدا کی صفات حسنہ سے پیارا در محبت کے ذریعہ ایسا تعلق جوڑنا کہ وہ صفات بالاخر آپ کے وجود میں ظاہر ہو جائیں۔دوسرا قدم ہے کہ اس کے نقوش کو اتنا گہرا کر دینا کہ پھر وہ دوسروں کے وجود میں ظاہر ہونے کی صلاحیت رکھے۔چنانچہ مہر کو کھرچ کر بنایا جاتا ہے ور نہ مہر کے لفظ اگر عام سطح پر لکھے گئے ہوں جس طرح کہ عام تحریریں لکھی جاتی ہیں تو ہر نہیں بن سکتی۔حالانکہ تحریر صاف پڑھی جاتی ہے۔مہر بنانے کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ الفاظ ایسے طور پر کندہ ہو جائیں، انمٹ ہو جائیں وجود کا ایک ایسا حصہ بن جائیں کہ پھر وہ دوسروں تک اُس اثر کو پہنچانے کی صلاحیت اختیار کر جائیں۔بنی نوع انسان کو امت واحدہ بنانے کا طریق پس خدا نما بننے کے لئے صرف خدا سے تعلق کافی نہیں بلکہ خدا سے ایک ایسا گہرا تعلق ضروری ہے جس کے نتیجہ میں خدا کی صفات کے نقوش غیروں تک منتقل ہونے کی صلاحیت حاصل کر لیں یہی وہ طریق ہے جس کے ذریعہ بنی نوع انسان کو امت واحدہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ صرف ایک خدا کی ذات ہے جس کے حوالے سے انسان ایک ہاتھ پر اکٹھا ہوسکتا ہے اور اس کے سوا اور کوئی حوالہ نہیں ہے میں سے آپ منتشر بنی نوع انسان کو ایک ذات میں اکٹھا کر سکیں۔اور اس کا