حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 157
تعالیٰ آپ سے راضی ہو اس کے بالکل بر عکس رویہ رکھتے تھے۔حضرت مصلح موعود لڑکوں کے مقابلہ پر لڑکیوں سے زیادہ پیار کرتے تھے اور لڑکیوں کے حقوق کی زیادہ حفاظت کرتے تھے۔اس وقت ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی ہم سمجھتے تھے یہ ہم پر ظلم کررہے ہیں۔میری اپنی بہن امتہ الباسط سے لڑائی ہوتی تھی وہ میرا منہ نوچ لیا کرتی تھی اور بعد میں مار مجھے ہی پڑتی تھی اور مجال ہے جو کبھی میں ہاتھ اٹھائی اور حضرت مصلح موعود اللہ تعالٰی آپ سے راضی ہو) کو پتہ لگے اور مجھے سزا نہ دیں۔بعض دفعہ اتنا سخت خفا ہوتے تھے کہ آدمی کو زندگی سے نفرت ہو جاتی تھی۔دل کے بڑے حلیم تھے۔الہام میں آپ کے متعلق ی فرمایا گیا کہ دل کا علم ہوگا۔دیسےعلیم نہیں فرمایا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو نے مجھے کہا کہ تمہیں پتہ ہے یہ کیوں کہا ہے اس لئے کہ اوپر سے جب بھڑکتے ہیں تو شیر کی طرح گرجتے ہیں اور اگلے کا دل ہلا دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ تم پر مردہ نہ ہو جانا ، اندر سے یہ حلیم ہی ہے اور واقعہ ایپ ہی کیا کرتے تھے۔بعض دفعہ سخت ناراض ہوئے اس کے بعد دلداری شروع کر دی۔ابھی چند دن پہلے میری اپنی بڑی باجی امتہ القیوم سے باتیں ہو رہی تھیں کہ ابا جان ان کی کمپین میں کس طرح تربیت کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ لڑکیاں کھیل رہی تھیں میں بھی تھی۔میرا قصور نہیں تھا۔بعض دوسری لڑکیوں نے واقعی شرارت کی تھی۔اُن پر ناراض ہوئے مجھے بھی ساتھ سزا دے دی اور میری بات ہی نہیں سنی۔اس وقت اچانک غصے کا اس قدر جوش تھا کہ کہا کہ بالکل نہیں تم سب کا ٹرپ Irip کینسل اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا میں ناراض ہو گئی اور کمرہ بند کر کے بیٹھ گئی۔بعد میں احساس ہوا۔اور باقاعدہ باہر گاتے پھرتے تھے کہ میری بیٹی مجھ سے ناراض ہو گئی ہے۔اس کو پتہ نہیں اس کا باپ معافی مانگنے کے لئے اس کے پاس آیا ہوا ہے پھر وہ انداز ایسا دردناک تھا کہ نہیں بھی روٹی اور حضرت مصلح موعود اللہ تعالے آپ سے راضی ہوا بھی روئے۔باپ بیٹی اس طرح گلے