حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 146
نے اپنا رخ بدل لیا ہے ، اس وقت اگر آپ کچھ کریں تو کچھ نہیں ہو سکتا۔دعاؤں کے نتیج میں کچھ کچھ تو ضرور ہو سکتا ہے لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ ایسے بچوں کے حق میں دعائیں نسبتاً کم قبول ہوتی ہیں اور ایسے بچوں کے حق میں زیادہ قبول ہوتی ہیں جن کی ماؤں کی دلی تمنا ان کو نیک رکھنے کی ہوتی ہے۔چنانچہ بہت سی ایسی بیچتیاں مجھے دکھائی دیتی ہیں جن کو دیکھ کر مجھے خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی اچھی تربیت نہیں ہوئی اور وجہ یہ ہے کہ ماں باپ نے بچپن سے ان کو اُسی ماحول میں اُسی انداز میں بڑے ہوتے دیکھا ہے اور پر واہ نہیں کرتے بلکہ بعض ان میں سے اپنی جہالت کی وج سے فخر محسوس کرتے ہیں، بعض کا معاشی پس منظر کمز ور ہوتا ہے اور علمی پس منظر کمزور ہوتا ہے اور اس کی وجہ ایک احساس کمتری کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں، وہ جب اپنے بچوں کو نئے نخروں کے ساتھ بلند ہوتے دیکھتے ہیں، زیادہ اچھے تلفظ سے انگریزی بولتے دیکھتے ہیں اور ایسے لباس پہنتے دیکھتے ہیں جو انہوں نے خواب و خیال میں بھی کبھی نہیں دیکھے تھے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بچے تو بڑے زبر دست بن رہے ہیں، بہت ماڈرن اور عظیم ارمان بچتے ہیں۔ہم تو چہ نہیں کس گھوڑے میں پڑے رہے تھے اور یہ نہیں سجھتے کہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کے بچے نہیں رہتے بلکہ کسی اور کے بچے بن رہے ہوتے ہیں۔اور جب ان کو احساس پیدا ہوتا ہے اس وقت تک وہ کسی اور کے بن چکے ہوتے ہیں اور مثال ایسی ہے جیسے احمدی ماں باپ کے گھر بچے پیدا ہوں، ان کے اخراجات پر تعلیم حاصل کریں اور آخر جب جوان ہوں تو غیروں کے ہو چکے ہوں تو آپ یہ بچے کس کے لئے پال رہی ہیں ؟ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے لئے یا شیطانی طاقتوں کے لئے اور دنیا پرستی کے لئے۔آپ کی تو ساری دولت ہی اولاد ہے۔یہی تو آپ کا مستقبل ہے۔اگر اس کی اداؤں سے آپ واقف ہی نہیں کہ یہ ادائیں کیسی ہیں اور کدھرے کے جارہی ہیں تو پھر آپ کو تربیت کا کوئی سلیقہ نہیں ہے۔