حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 145

۱۱۴۵ ہوگا کہ ماں باپ گپیں مارتے ہیں ان کو دنیا زیادہ اچھی لگتی ہے دین نسبتا کم اچھا لگتا ہے اگر ماں باپ کے دل میں دین کی گہری محبت ہو تو وہ خاموش بھی ہوں تو ان کے بچوں پر بہت نیک اثرات پڑتے ہیں۔ہم نے ایسی جاہل مائیں بھی دیکھی ہیں جو دنیا کے لحاظ سے جاہل لیکن دل میں نیکی اور اللہ اور رسول کی محبت جاگزیں تھی بسادہ سے لوگ تھے۔پرانے زمانوں کے لوگ لیکن ان کی اور دیں سب کی سب خدا کے فضل سے دیندار نہیں۔اور جب آپ اُن سے پوچھیں تو وہ آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ تو ہماری ماں کا احسان ہے ، اس نے دودھ میں ہمیں اللہ کی محبت پلائی۔پس یہ جو دودھ پلانے کا محاورہ ہے اس میں بہت گہری حکمت کی بات ہے۔دودھ میں محبت پلانے کا مطلب یہ ہے کہ ان ماؤں کے خون میں وہ محبت رچی ہوئی ہوتی ہے۔وہ دودھ پلائیں تو دودھ کے ذریعے وہ محبت بچوں میں جاتی ہے۔وہ باتیں کریں تو باتوں کے ذریعے وہ محبت جاتی ہے۔اوریاں دیں تو تب بھی وہ محبت اکن کے دلوں میں جاتی ہے۔دم ان کو جب پیار کی نظروں سے دیکھتی ہیں تو ساتھ بسم الله کہتی ہیں اور دعائیں کرتی جاتی ہیں کہ اللہ ان کو نیک بنائے ، الل ان کو نیکی پر پروان چڑھائے ایسی سادہ مائیں جو خود عالم نہ بھی ہوں۔دین کا کوئی خاص علم نہ بھی رکھتی ہوں لیکن تقومی کھیتی ہیں اور سب سے اچھا در شر جو ماں کسی بچے کو دے سکتی ہے وہ تقویٰ کا درش ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے زائل ہونے کا خوف، یہ تقویٰ ہے جو مائیں اپنے بچوں کو عطا کر سکتی ہیں۔ان چیزوں کی طرف توجہ کریں اور یہ کام بچپن میں ہونے چاہئیں۔اولاد آپ کی دولت اور متقبل ہے جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔آپ کے تعلق میں پچھتوں کی مثال زیادہ مناسب ہے) بچیوں کی نظریں بدلنے لگتی ہیں جب اُن کے بالوں کے انداز ان کے کپڑوں کے انداز ان کی مسکرائیں ، اُن کی لچسپیوں کے انداز ظاہر ہو جاتے ہیں اور آپ کو پتہ لگ جاتا ہے کہ انہوں