حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 132

گہرے ہوں اور تلاش کرنے والے ہوں ان کے علم کا بھی پتہ چلتا ہے اوران کی ذہنی جستجو کبھی پتہ چلتا ہے تو ان بچیوں کا میکہ دل پر بہت اچھا اللہ پڑا۔بہت اچھے اچھے سوال کئے اور بعض دفعہ ان کے سوالوں سے یہ بھی پتہ چلا کہ ان کے ماں باپ کو کس حد تک دین کا علم ہے۔یہ ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے جس کی طرف میں سب سے پہلے آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور ہماری ذمہ داریاں ہمارے اوپر آئندہ نسلوںکی ذمہ داری ہے اور خصوصیت کے ساتھ نسل جواب ہمارے سامنے بڑھ کر جوان ہونے والی ہے اس کی ہم پر بہت ہی زیادہ ذمہ داری ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ احمدیت اب ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کو خدا نے جو خوشخبری دی کہ اب نیک طبیعتوں کا اس طرف رحجان ہے اور ان پر فرشتے نازل ہو رہے ہیں۔ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہم ان فرشتوں کا نزول اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔اس کثرت کے ساتھ جماعت میں دنیا کی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور اس تیزی سے مطالبے آرہے ہیں کہ اگر ہمارے موجودہ وسائل اسی طرح رہیں تو ناممکن ہے کہ ہم دنیا کی ضرورتیں پوری کرسکیں۔ایک USSR ا متحد روس کا میدان ہی اتنا وسیع ہے اور وہاں کی ضروریات اتنی زیادہ ہیں کہ اگر جماعت اپنے تام موجودہ وسائل کو بھی USSR کے لئے وقف کر دے تب بھی وہ ضرور میں پوری نہیں ہو سکتیں۔جب سے روس کا ollapse) رستگی ہوا ہے، روس اچانک یوں بیٹھ گیا ہے جیسے اس میں کبھی جان ہی نہیں تھی اس کے کچھ بدنتائج دنیا کے سامنے ظاہر ہورہے ہیں اور کچھ ظاہر ہوں گے۔ابھی تو سر دست دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بہت بڑی فتح ہے یا capitalism اسمرا یارانہ نظام کی فتح ہے مگر یہ سب بیوقوفی کی باتیں ہیں۔یہ نظام بھی ناکام ہو چکا ہے جس میں ہم اس وقت موجود ہیں اور وہ نظام بھی ناکام ہو چکا ہے اور