حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 131
تشہد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا اور آج کا لجنہ کا یہ اجتماع جو یہاں منعقد کر رہے ہیں اسی قسم کا لجنہ کا ایک اجتماع جرمنی میں بھی منعقد ہورہا ہے اور اس اجتماع میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت اس خطاب کی آواز پہنچ رہی ہے۔ان کی طرف سے فیکس کے ذریعہ مجھے یہ اطلاع ملی اور ساتھ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ جب لجنہ کینیڈا کو مخاطب کریں تو ہمارا بھی خیال رکھیں ہم تک بھی آواز پہنچ رہی ہے۔ہمارا بھی آج اجتماع کا پہلا دن ہے۔اس لئے میں آپ دونوں کو بیک وقت خطاب کر رہا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ لجنہ جرمنی خدا کے فضل سے بہت ہی مستعد لجنہ ہے اور جب بھی مجھے جرمنی جاکر قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا ہے مجھے اس بات سے بہت خوشی پہنچی ہے کہ لجنہ اپنے سب کاموں میں خدا کے فضل سے مستعد ہے اور خصوصاً بچوں کی تربیت کی طرف ان کی گہری توجہ ہے اور اس کے نیک آثار ظاہر بھی ہورہے ہیں۔دو سال پہلے جب یں دوہاں گیا یا غالباً پچھلے سال کی بات ہے توپہلی مرتبہ مجند نے یہ ایک نیا پروگرام داخل کیا کہ چھوٹی بچیتوں کے ساتھ سوال وجواب کی مجلس لگائی اور مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ چھوٹی چھوٹی بچیاں بہت کچھ جانتی تھیں۔گر کی کو کچھ علم نہ ہو تو وہ سال بھی نہیں کر سکتا اور صرف جواب ہی سے کسی کے علم کا انداز نہیں ہوا کرتا بہت حد تک حوالوں سے بھی کسی کے علم کا اندازہ ہو جایا کرتا ہے۔جن کے سوال سطحی ہوں ان کے علم بھی سھی ہوا کرتے ہیں جن کے سوال