حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 129

۱۲۹ سب سے اچھا ورثہ جو ماں کسی بچے کو دے سکتی ہے وہ تقوی کا در شر ہے۔آپ کی تو ساری دولت ہی اولاد ہے یہی تو آپ کا مستقبل ہے۔تربیت کے سلیقے کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز لگن ہے۔اگر آپ کے دل میں سچی لگن ہو تو ایسی ماؤں کے بچے ضائع نہیں ہو سکتے۔بچپن سے ہی اپنے بچوں کے عادات و اطوار پر نظر رکھیں۔محبت اور پیار کے ساتھ ان کے اندر دین کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔بیوی سے ظلم کا سلوک بہت بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ ہے۔یہ ایک ایسا گناہ ہے جو سارے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے۔(عورتیں) اپنے لڑکوں کی ایسی تربیت کریں کہ جب وہ بڑے ہوں تو وہ اپنی بیویوں سے نیک سلوک کرنے والے ہوں آج کی مائیں کل کے مرد پیدا کرنے والی مائیں ہیں۔دہ مائیں ہی ہیں جن کی غلط تربیت بعد میں عورتوں کے سامنے آتی ہے گویا فی الحقیقت عورت عورت پر ظلم کر رہی ہے اگر آپ نے اپنے اوپر رحم کرنا ہے تو اپنے لڑکوں کی صحیح تربیت کریں اور عورت کے حقوق ان کو بچپن سے بتائیں اور انہیں بہنوں کی عزت کرنا سکھائیں ان کے اندر نفیس جذبات پیدا کریں اور عورت کی عزت کا خیال ان کے دل میں جاگزیں کریں اگر آپ ایسے لڑکے پیدا کریں گی تو آپ کا احسان آئندہ نسلوں پر بڑا بھاری ہوگا۔نسلاً بعد نسلاً احمدی بچوں کو اچھے خاوند عطا ہوتے رہیں گے۔ایسے خاوند جیسا ہم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی صورت میں دیکھا ہمیں بہت ضرورت ہے کہ ہمارے گھر کے ماحول اچھے ہوں، پیارے ہوں ، مردوں کی بیٹیوں کی بیٹیوں کی ہر وقت یہ خواہش ہو کہ ہم گھر واپس لوٹیں اور نہیں چین آئے آپس میں ایک دوسرے سے محبت ہو، پیار ہو اور احمدی گھروں کے تعلقات تمام دنیا کے گھروں سے بہتر تعلقات بن جائیں۔یہ وہ نمونہ ہے جس کو پیش کرنے کے نتیجہ آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے (دین حق۔۔ناقل) کی بہترین پیغامبر بن جائیں گی ورنہ زبانی باتوں کو آج کی دنیا میں کوئی نہیں سنا کرتا۔