حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 128

۱۲۸ حضور انور کے اس خطاب کے چند اہم نکات ذیل میں پیش کئے جارہے ہیں احمدیت اب ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔اس کرت کے ساتھ جماعت میں دنیا کی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور اس تیزی سے مطالبے آئے ہے ہیں کہ اگر سارے موجودہ وسائل اسی طرح رہیں تو ناممکن ہے کہ ہم دنیا کی ضرورتیں پوری کر سکیں۔میری خلافت کا لجنہ اماء اللہ سے ایک گہرا تعلق ہے میرے اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ لجنہ جماعتی خدمات میں بہت ہی مستعد ہو گی اور بہت قوت کے ساتھ میری مدد کرے گی۔میری خلافت کا روس کے ساتھ بھی ایک تعلق ہے۔اب یہ وقت ہے۔جس میں واقعہ بڑی تیزی کے ساتھ ہم روس میں دین پھیلانے لگیں گے۔روس میں تبلیغ (دین حقی - ناقل) کے سلسلہ میں احمدی خواتین بہت بڑے کام کر سکتی ہیں اپنی بچیوں کی حفاظت کی خاطر شروع ہی سے ان کے اور پر دینی ذمہ داریاں ڈانا شروع کر دیں ان کے سپرد کوئی ایسے اعلیٰ درجہ کے کام کر دیں جن کے نتیجے میں ان میں ایک احساس پیدا ہو کہ ہم بہت عظیم خواتین ہیں۔ہم خاص مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہیں ہم نے بڑے بڑے کام دنیا میں سر انجام دیتے ہیں۔دنیا کے پیچھے نہیں گئی بلکہ دنیا کو اپنے پیچھے چلاتا ہے۔یہ جذبہ انسان کے اندر ایک اندرونی محافظ پیدا کر دیتا ہے جسے خدا نے ہر ضمیر میں رکھا ہوا ہے اس قسم کا احساس اگر بچپن میں پیدا کر دیا جائے تو بعد میں ان کے ضمیر کا وہ محافظ اور نگران ان کو ہمیشہ صحیح رستہ پر قائم رکھتا ہے جن ملکوں میں ہم خدمت دین کے لئے نکلے ہیں ، جن تہذیبوں سے ہمارا واسطہ ہے ان کا زہر بہت گہرا ہے اور اس سے اپنی اولاد کو بچانا ہمارے اولین مقاصد میں سے ہونا چاہیے اور یہ حفاظت دفاعی طور پر نہیں ہو سکتی۔کے لئے اپنے بچوں میں ایسی جارحیت پیدا کریں جو محبت کی جارحیت ہے۔دین حق۔۔نافل) آج کے دور میں پیدا ہونے والے بچوں پر آئندہ نسلوں کی تربیت کی قصہ داری ہے پس ایسے اچھے بچے پیدا کرنے کے لئے آپ کو اچھی مائیں بنتا ہو گا