حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 115
داا دوسرا دور بھی آتا ہے اور وہ ہے علاج کا دور۔اس نئے دور میں ایک نوع کی سختی روا رکھی جاتی ہے لیکن اُس سختی کی حیثیت جبر کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی حیثیت یا مقام علاج کا ہوتا ہے۔جماعت کو آخر پر علاج کا درجہ رکھنے والی سختی سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔جماعت کو آخری چارہ کار کے طور پر ایسی سختی یہاں بھی کرنا پڑے گی۔جیر والی سختی اور علاج والی سختی ہیں جو فرق ہے میں اسے اچھی طرح واضح کر کے سمجھانا چاہتا ہوں۔علاج والی سختی کو جب سمجھنا ہرگز بھی درست نہ ہوگا۔اس کو ایک مثال سے پاکسانی واضح کیا جاسکتا ہے۔بالفرض کہیں کوئی وبا پھیل جائے اور بعض ایسے مریض ہوں جو دوسروں کو بھی بیمار کرنے والے ہوں پوری کوشش کے باوجود بھی ان کی بیماری قابو میں نہ آئے اور وہ یہ بات سمجھنے پر بھی آمادہ نہ ہوں کہ تم اپنی بیماری کو اپنے تک محدود رکھو اور دوسروں کو خواہ مخواہ اس میں مبتلا نہ کرو تو ایسے مریضوں کے لئے دنیا کی تمام آزاد قوموں میں جو جبر کے خلاف میں یہ قانون رائج ہے کہ انہیں مجبور کر کے Quarantine یعنی قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔قرنطینہ ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں ایسے مریضوں کا باہر کی دنیا سے اختلاط منقطع کر دیا جاتا ہے تاکہ انکے جراثیم اور اثرات باقی صحت مند لوگوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔جماعت احمدیہ میں اس قسم کا قرنطینہ تو نہیں ہے جو قرنطینہ ہے وہ ایک اور رنگ کا ہے۔ہم باقی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں سے سزا کے طور پر نہیں بلکہ اپنے دفاع اور خود حفاظتی کے طور پر اپنے سوشل تعلقات توڑیں تا کہ آپ کی معصوم بچیاں ان کی سیرت دیکھ کر اس سے بداثر قبول نہ کریں اور انہیں خطرات لاحق ز ہوں۔ایسے بیمار لوگ غیر ذمہ دارانہ باتیں دوسروں کے کانوں میں پھونکتے ہیں۔اس سے میدی اور فحشاء پھیلتی ہیں۔اسے روکنے اور اس سے دوسروں کو بچانے کی خاطر بالاخر ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔تستی اور تین کے متعلق اسلامی تعلیم اس ضمن میں ایک