حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 107

جو آپ کو دیا گیا ہے کہ آئندہ نسلوں کے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ آج کی ماؤں نے کرنا ہے، آج کی بہنوں نے کرنا ہے، اگر وہ آئندہ نسلوں کو جنتی بنانے کا فیصلہ کریں تو وہ ہیں جو وہ عنقریب مائیں بننے والی نہیں اور وہ مائیں جن کے زیر تربیت موجودہ نسلیں پل رہی ہیں بہت عظیم انسان احسان آئندہ نسلوں پر کرنے والی ہوں گی۔اگر آپ یہ فیصلہ نہیں کریں گی تو پھر آپ وہ مائیں نہیں ہیں جن کا ذکر محمد رسل اله صل اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرما رہے ہیں۔اس تصور نے یہ نہیں فرمایا کہ سرماں کے پاؤں تلے جنت ہے۔ان ماؤں کے پاؤں تھے جو نیک نہیں ہوتیں جہنم ہی ہوتی ہے۔پس یہ فرمایا کہ ماں کے پاؤں تلے جنت ہے اس میں یہ بات معمر ہے کہ وہ پاک عورتیں جو محمدرسول اللہصلی الہ علیہ وعلی آلہ سلم کی امتی اور آپ کی غلام ہیں، جو اسلام پر دیانت داری اور تقویٰ کے مطابق عمل کرنے والی ہیں ان کے پاؤں تلے جنت ہے کیونکہ آئندہ آنے والی نسلیں منیتی صفات لے کر پیدا ہوں گی اور وہ پاکباز ماؤں کی گودوں میں جیتی صفات لے کر پلیں گی اور ماؤں کے دودھ کی شکل میں جنت کے دودھ پئیں گی۔یہ وہ پیغام ہے جو آپ (یعنی یہاں موجو د احمدی خواتین) کو عطا کیا گیا ہے اس لئے آپ کو یہاں آنے کے بعد ا یعنی پاکستان کی ان خواتین کو جو جرمنی میں آکر آباد ہوئی ہیں) یہ بات یا درکھنی چاہیئے کہ ان کے پاؤں تلے نہ صرف اپنی آئندہ نسلوں کی جنتیں ہیں بلکہ جو روحانی طور پر نئی نسلیں ان کو عطا ہو رہی ہیں اور تبلیغ کے ذریعہ جور دھانی بچے پیدا ہو رہے ہیں ان کی جنت کا بھی گہرا تعلق احمدی خواتین کے اس پاک اسوہ سے ہے۔اگر وہ اس اسوہ میں خامیاں رکھتی ہیں اور اگر وہ اس کو احسن رنگ میں ( دینی۔ناقل ) اسوہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں تو پھر یقینا ان کے پاؤں تلے سے اسی حد تک جنت کم ہوتی چلی جائے گی۔مغرب سے عنقا ہونے والی ایک قدر اس ضمن میں آج میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جہاں