ہستی باری تعالیٰ — Page 89
۸۹ صفت القیت خدا کی ہستی کا ثبوت پانچویں مثال کے طور پر میں صفت خلق کو بیان کرتا ہوں۔یہ بات واضح ہے کہ اگر تمام تخلیق کے علاوہ جو دنیا میں ایک مقررہ قاعدہ کے ماتحت ہو رہی ہے ایک خاص تخلیق بھی ثابت ہو جائے تو ماننا پڑے گا کہ ایک ایسی ہستی ہے جس کی قدرت میں ہے کہ جو چاہے پیدا کرے اور یہ خدا تعالیٰ کے موجود ہونے کا ایک زبر دست ثبوت ہوگا۔اس صفت کے ثبوت کے طور پر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔آپ ایک دفعہ کہیں جارہے تھے کہ آپ کے ساتھیوں کے پاس جو پانی تھاوہ ختم ہو گیا۔اتنے میں آپ نے دیکھا کہ ایک عورت پانی لئے جارہی ہے۔آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہاں سے پانی کتنے فاصلہ پر ہے؟ اس نے کہا تین منزل پر چونکہ ایک لشکر آپ کے ساتھ تھا اور پانی ختم ہو چکا تھا آپ نے اس سے پانی کا مشکیزہ لے لیا اور اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر لوگوں کو پانی دے دیا اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی برکت دی کہ سب کی ضرورت بھی پوری ہوگئی اور اس عورت کے لئے بھی پانی بیچ رہا یہ ایک زبر دست نشان صفت خالقیت کے ثبوت میں ہے اور اس واقعہ کے بچے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جب اس واقعہ کو اس کی قوم نے معلوم کیا تو وہ سب کی سب مسلمان ہو گئی۔ایک ایسا واقعہ جس پر قوم کی قوم مذہب تبدیل کرلے۔راویوں کے ذہن کی بناوٹ نہیں کہلا سکتا۔اگر کوئی کہے کہ یہ تو ایک قصہ ہے جو بعد میں بنا لیا گیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس قسم کی تازہ مثالیں بھی موجود ہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود کا ہی ایک واقعہ ہے جس کے گواہ بھی زندہ موجود ہیں اور وہ یہ کہ حضرت حب ایک دفعہ سوئے ہوئے تھے۔مولوی عبد اللہ صاحب سنوری آپ کے پاؤں دبا بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام