ہستی باری تعالیٰ — Page 88
٨٨ دوستوں سمیت سور ہے تھے کہ آپ کی آنکھ کھلی اور دل میں ڈالا گیا کہ مکان خطرہ میں ہے آپ نے سب دوستوں کو جگایا اور کہا کہ مکان خطرہ میں ہے اس میں سے نکل چلنا چاہئے۔سب دوستوں نے نیند کی وجہ سے پرواہ نہ کی اور یہ کہ کر سو گئے کہ آپ کو وہم ہو گیا ہے مگر آپ کا احساس برابر ترقی کرتا چلا گیا آخر آپ نے پھر انکو جگایا اور توجہ دلائی کہ چھت میں سے چرچراہٹ کی آواز آتی ہے مکان کو خالی کر دینا چاہئے انہوں نے کہا معمولی بات ہے ایسی آواز بعض جگہ لکڑی میں کیڑا لگ جانے سے آیا ہی کرتی ہے۔آپ ہماری نیند کیوں خراب کرتے ہیں مگر آپ نے اصرار کر کے کہا کہ اچھا آپ لوگ میری بات مان کر ہی نکل چلیں آخر مجبور ہو کر وہ لوگ نکلنے پر رضامند ہوئے۔حضرت صاحب کو چونکہ یقین تھا که خدا میری حفاظت کے لئے مکان کے گرنے کو روکے ہوئے ہے۔اس لئے آپ نے انہیں کہا کہ پہلے تم نکلو پیچھے میں نکلوں گا۔جب وہ نکل گئے اور بعد میں حضرت صاحب نکلے تو آپ نے ابھی ایک ہی قدم سیڑھی پر رکھا تھا کہ چھت گر گئی۔دیکھو آپ انجنیئر نہ تھے کہ چھت کی حالت کو دیکھ کر سمجھ لیا ہو کہ گرنے والی ہے نہ چھت کی حالت اس قسم کی تھی نہ آواز ایسی تھی کہ ہر اک شخص اندازہ لگا سکے کہ یہ گرنے کو تیار ہے۔علاوہ ازیں جب تک آپ اصرار کر کے لوگوں کو اُٹھاتے رہے اس وقت تک چھت اپنی جگہ پر قائم رہی اور جب تک آپ نہ نکل گئے تب تک بھی نہ گری مگر جو نہی کہ آپ نے پاؤں اُٹھایا چھت زمین پر آگری۔یہ امر ثابت کرتا ہے کہ یہ بات کوئی اتفاقی بات نہ تھی بلکہ اس مکان کو حفیظ ہستی اس وقت تک روکے رہی جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی حفاظت اس کے مدنظر تھی اس مکان سے نہ نکل آئے۔پس صفت حفیظ کا وجود ایک بالا رادہ ہستی پر شاہد ہے اور اس کا ایک زندہ گواہ ہے۔