ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 84

ایک ایسا حیرت انگیز مشاہدہ ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کا انکار ایک قسم کا جنون ہی معلوم دیتا ہے۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دُعاؤں کی قبولیت کے ایسے نشان دیکھے ہیں کہ ان کے دیکھنے کے بعد خدا تعالیٰ کے وجود میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا پھر خود اپنی ذات میں بھی اس نشان کا مشاہدہ کیا ہے اور بارہا حیرت انگیز ذرائع سے دعاؤں کو قبول ہوتے دیکھا ہے۔نواب محمد علی خان صاحب کے صاحبزادے میاں عبد الرحیم خان صاحب کے واقعہ کو ہی دیکھ لو وہ ایک دفعہ ایسے بیمار ہوئے کہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اب یہ بچ نہیں سکتے۔حضرت صاحب نے دُعا کی کہ خدا یا اگر اس کی موت آ چکی ہے تو میں اس کی شفاعت کرتا ہوں تب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر اس کی شفاعت کر سکے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہ بات سن کر مجھ پر استقدر رُعب طاری ہوا کہ گو یا جسم میں سے جان نکل گئی اور میں ایک مردے کی طرح جا پڑا اور پھر الہام ہوا کہ اچھا تم کو اجازت دی جاتی ہے چنانچہ آپ نے پھر دُعا کی اور وہ قبول ہوگئی۔آپ نے اسی وقت باہر نکل کر یہ بات لوگوں کو سنا دی اور میاں عبدالرحیم خان جن کی نسبت ڈاکٹر اور حکیم کہہ چکے تھے کہ اب ان کی آخری گھڑیاں ہیں اسی وقت سے اچھے ہونے لگ گئے اور اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں اور اس وقت ولایت تعلیم کے لئے گئے ہوئے ہیں۔( نظر ثانی کے وقت وہ خدا کے فضل سے بیرسٹری کے امتحان میں کامیاب ہو چکے ہیں )۔غرض دُعا ئیں ایسے رنگ میں قبول ہوتی ہیں کہ جو امور ناممکنات میں سے سمجھے جاتے ہیں؟ ماننا پڑتا ہے کہ کسی بالا ہستی کی قضاء کے ماتحت ان کی قبولیت وقوع میں آتی ہے۔تذکره صفحه ۴۹۶،۴۹۵ایڈیشن چهارم