ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 83

۸۳ کیا خدا کا مشاہدہ کر نیوالوں کے حواس غلطی تو نہیں کرتے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جو لوگ خدا کے مشاہدہ کا اعلان کرتے ہیں ممکن ہے ان کے حواس کی غلطی ہو اور وہ پاگل ہوں یا دھوکا خوردہ مگر ہم کہتے ہیں یہ کیسا پاگل پن ہے کہ اس قسم کے کلام پانے والے سب کے سب اس امر پر متفق ہیں کہ ایک زبر دست ہستی ہے جو ہم سے کلام کرتی ہے کبھی پاگلوں میں بھی اس قسم کا اتفاق ہوا کرتا ہے؟ پاگل تو دو بھی ایک بات نہیں کہتے کجا یہ کہ سینکڑوں و ہزاروں لوگ ایسی بات کہیں ان میں سے کتنوں کے متعلق کہو گے کہ ان کے دماغ خراب ہو گئے اس لئے یہ شبہ بالکل غلط ہے۔صفت مجیب خدا کی ہستی کا ثبوت تیسری مثال کے طور پر میں خدا تعالیٰ کی صفت مجیب کو بیان کرتا ہوں۔جس قدر لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کے مدعی گزرے ہیں سب کہتے چلے آئے ہیں کہ خدا مجیب ہے دُعاؤں کو قبول کرتا ہے۔اب اگر تجربہ سے ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ کوئی دُعاؤں کو قبول کرنے والی ہستی موجود ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود میں کوئی شبہ نہیں رہتا بلکہ اس امر میں بھی کہ وہ سمیع اور مجیب ہے۔سمیع تو اس طرح کہ بندہ کہتا ہے اور وہ سنتا ہے اور مجیب اس طرح کہ بندہ کی عرض قبول کرتا ہے۔اس صفت کے ثبوت کے طور پر میں دُعاؤں کی قبولیت کو پیش کرتا ہوں۔کس کس رنگ میں انسان دُعا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کس کس طرح اس کے لئے ناممکن کو ممکن کر کے دکھا دیتا ہے۔یہ